تحریر:آصف چوہدری
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
یہ کسی ایک انسان کی موت کی کہانی نہیں، یہ پورے پرنٹ میڈیا کی آہستہ آہستہ ہوتی ہوئی موت کا نوحہ ہے۔ پرنٹ میڈیا کے ورکرز اس وقت جس کرب سے گزر رہے ہیں، اس کا کوئی باضابطہ ریکارڈ نہیں۔ نہ یہ المیہ بریکنگ نیوز بنتا ہے، نہ کسی ادارتی صفحے کی زینت۔ برسوں ان لوگوں سے دن رات کام لیا گیا، مالکان نے ان کا خون نچوڑا، نہ مستقل نوکری دی، نہ علاج، نہ بڑھاپے کا سہارا۔ پھر اچانک ایک دن نوکری ختم ہوئی اور یوں لگاکہ انسان کی حیثیت بھی ختم ہو گئی۔ شاہد علی بھی انہی قربانیوں میں شامل ہو گیا۔
وہ ہر دوسرے دن ایک ہی بات دہراتا تھا: پلاٹ۔
نوکری جانے کے بعد وہ پلاٹ اس کی آخری امید بن گیا تھا۔ چھت، بچوں کا مستقبل، کرائے کے عذاب سے نجات سب کچھ ایک نامکمل وعدے سے جڑا تھا۔
شوگر چار سو سے اوپر چلی گئی، بینائی متاثر ہوئی۔ ایک آنکھ کا آپریشن ہوا، دوسری باقی تھی۔ پیسے ختم ہو چکے تھے، حوصلہ بھی۔ کہتا تھا یار، مکان کا کرایہ نہیں دے سکتا، میرے پلاٹ کا کچھ کرا دو۔ ذہنی طور پر وہ ٹوٹ چکا تھا۔ ایک پانچ سال کی خصوصی بچی، جو ہر وقت اس کے سینے سے لگی رہتی تھی، جیسے اسے معلوم ہو کہ باپ ہی اس دنیا میں اس کا واحد تحفظ ہے۔
پھر وہ فون آیا کہ شاہد کو کچھ ہو گیا ہے۔ گنگا رام ہسپتال، بڑے پروفیسرز، میڈیکل بورڈ، رپورٹس—پتا چلا بڑی آنتوں کی ایک نایاب بیماری ہے، جو ہزار میں ایک کو ہوتی ہے۔ مگر اصل بیماری خوف اور محرومی تھی۔ وہ بار بار بچوں کا ذکر کرتا رہا۔ میرے بچوں کی چھت کا کچھ کر دو، میرے بغیر کرائے کے مکان میں رل جائیں گے۔ چھ گھنٹے کا آپریشن ہوا۔ ہوش آیا تو پھر وہی بات، وہی فکر، وہی پلاٹ۔ جیسے زندگی کا آخری دھاگا اسی لفظ سے بندھا ہو۔
پھر یرقان کا حملہ ہوا۔ علاج شروع ہوا تو معلوم ہوا کہ اس کی پانچ سالہ بچی ہسپتال میں رہتے ہوئے نمونیا کا شکار ہو چکی ہے۔ اوپر ICU میں بچی تھی، نیچے باپ زندگی اور موت کے درمیان معلق تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں دیکھنے والوں کی ہمت بھی جواب دے گئی۔
ICU میں لیٹا ہوا شخص بار بار اپنے ایف بلاک کے پلاٹ کا ذکر کرتا رہا۔ یہ لالچ نہیں تھا، یہ ایک بے بس باپ کی چیخ تھی۔ اس نظام کے خلاف خاموش بد دعا تھی جس نے ایک صحافی کو مرنے سے پہلے بھی چھت مانگنے پر مجبور کر دیا۔ آخری رات اس نے کہا میرا وقت آ گیا ہے، مجھے گھر لے جاؤ، میں گھر مرنا چاہتا ہوں۔ بیوی کی آنکھوں میں آنسو تھے، درخواست تھی کہ اس کی آخری خواہش پوری کر دی جائے۔ مگر فیصلہ ہونے سے پہلے حالت بگڑ گئی۔ وہ وینٹیلیٹر پر چلا گیا، اور پھر واپس نہ آ سکا۔ دو ماہ کے اندر پچیس سال پرانا ساتھی ہاتھوں سے پھسل گیا۔یہ صرف ایک فرد کا جنازہ نہیں تھا، یہ ایک پورے شعبے کی بے بسی تھی۔ سوال اب بھی کھڑا ہے:
جب پرنٹ میڈیا کا ورکر یوں مر جائے تو کیا اگلی باری الیکٹرانک میڈیا کی ہے؟ یا پھر ہم سب اسی شرم میں خاموش رہیں گے جس میں ڈوب مرنے کا مقام ہے؟


