لاہور: پنجاب اسمبلی نے پولیس آرڈر بل 2025 کو دوسری ترمیم کے ساتھ کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔ بل کے تحت پنجاب بھر میں ’رائٹ مینجمنٹ یونٹ‘ قائم کیا جائے گا، جس کی سربراہی ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کریں گے۔
بل کے مطابق رائٹ زون میں پولیس یا عوام پر حملے کی صورت میں 10 سال تک قید اور جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ ان علاقوں میں مقدمات ناقابلِ ضمانت ہوں گے اور سیشن کورٹ میں سنے جائیں گے۔ فسادات کے مقدمات 30 دن کے اندر نمٹانے کی پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔
مزید برآں، رائٹ زون میں ملوث ملزمان کو عدالتی اجازت کے بغیر بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور مقدمات درج ہونے کے بعد وہ اپنی جائیداد منتقل نہیں کر سکیں گے۔ غیر قانونی جائیداد کی منتقلی کو کالعدم قرار دیا جائے گا۔
بل کا مقصد ریاستی رٹ کا قیام، املاک کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانا ہے۔ فسادات اور غیر قانونی اجتماعات سے نمٹنے کے لیے خصوصی قانونی فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور ضلعی پولیس سربراہ کو کسی علاقے کو ’رائٹ زون‘ قرار دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔
رائٹ زون میں ایک انسیڈنٹ کمانڈر تعینات ہوگا جو تمام اداروں کے درمیان رابطے کا کام کرے گا اور غیر قانونی اجتماع منتشر کرنے یا قانونی کارروائی کرنے کا مجاز ہوگا۔ رائٹ مینجمنٹ یونٹ کے افسران کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا، اور ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران کے خلاف نیک نیتی میں کیے گئے اقدامات پر مقدمہ نہیں ہو سکے گا۔
فسادات کے دوران جدید ٹیکنالوجی اور سیف سٹی کیمروں کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے، اور سیف سٹی کے ذریعے حاصل کی گئی ویڈیو اور تصاویر عدالت میں ثبوت کے طور پر قابل قبول ہوں گی۔
غیر قانونی اجتماع یا فساد میں نقصان کی صورت میں عدالت متاثرہ افراد کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے سکے گی، جبکہ فسادات کے دوران جانی یا مالی نقصان کی صورت میں مجرموں سے مکمل معاوضہ وصول کیا جائے گا۔
فسادات میں معاونت، اکسانے یا سازش کرنے والے افراد بھی معاوضے کے یکساں ذمہ دار ہوں گے، اور معاوضہ زمین کے واجبات کی طرح وصول کیا جا سکے گا۔
پولیس یا عوام پر حملہ،10 سال قیدوجرمانہ، پنجاب اسمبلی سے پولیس آرڈر بل 2025 منظور

