Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      امریکا، ایران کشیدگی : اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 100 انڈیکس 6408پوائنٹس کی کمی

      فیفا ورلڈ کپ 2026: اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ویورز کا نیا ریکارڈ،نیٹ فلکس، ڈزنی اور یوٹیوب کے درمیان 2030 ورلڈ کپ کے حقوق کی جنگ تیز

      میٹھی خوشخبری: ڈارک چاکلیٹ دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر اور فالج کے خلاف بہترین ڈھال قرار

      کروڑ پتی کلب: ہنڈا اور ٹویوٹا کی ہائبرڈ گاڑیاں خریدنا اب عام آدمی کے بس سے باہر

      ہالی ووڈ اور صارفین کا احتجاج رنگ لے آیا: میٹا نے انسٹاگرام سے جڑا AI فیچر واپس لے لیا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    پنجاب پولیس: وردی ایک، اصول دو، وائرل تین رینکر افسر معطل، وائرل خاتون افسر محفوظ،کیا پروفیشنل ازم ایک کلپ سے ثابت ہو جاتا ہے؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    پنجاب پولیس میں آج کل جرائم کے خلاف نہیں بلکہ وائرل ہونے کے خلاف مقابلہ جاری ہے۔ اس مقابلے میں اس وقت دو پی ایس پی خواتین افسران کے نام نمایاں ہیں۔ ایک طرف پنجاب پولیس کے شعبہ موٹر ٹرانسپورٹ کی سربراہ ایس ایس پی ڈاکٹر انوش مسعود چوہدری اور دوسری طرف اے ایس پی شہر بانو نقوی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ڈاکٹر انوش کے وائرل کلپس ماضی کی یادگار ہیں، جبکہ اے ایس پی شہر بانو کے کلپس حال کا شور بن چکے ہیں۔ حالیہ وائرل کلپ میں اے ایس پی شہر بانو ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کر رہی ہوتی ہیں کہ اچانک SHO کی کال آتی ہے۔ کال سنتے ہی وہ میزبان سے کہتی ہیں ”مجھے کال آ رہی ہے، قتل کا واقعہ ہے، میں آتی ہوں“ اور یوں پوڈکاسٹ چھوڑ کر روانہ ہو جاتی ہیں۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ واپس آتی ہیں اور گفتگو دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔ یہ جملہ سادہ نہیں تھا، یہ جملہ پنجاب پولیس میں ایک نئی بحث چھوڑ گیا۔ سوال یہ نہیں کہ قتل ہوا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ پروفیشنل ازم کیا واقعی ایک جملے سے ثابت ہو جاتا ہے؟ یہ کلپ پنجاب پولیس کے افسران میں زیرِ بحث رہا۔ بددلی بھی پھیلی اور حیرت بھی۔ افسران نجی محفلوں میں پوچھتے دکھائی دیے کہ اگر یہی حرکت کوئی رینکر افسر کرتا تو کیا اس کا انجام معطلی نہ ہوتا؟ اگر کوئی مرد DSP یا SHO پوڈکاسٹ چھوڑ کر اس انداز میں “قتل” کا اعلان کرتا تو کیا اسے شوکاز نوٹس نہ ملتا؟ یہاں مسئلہ شہر بانو نہیں، پالیسی کا دوہرا پن ہے۔ یاد کیجیے، سابق ڈی پی او احمد محی الدین جو کبھی پنجاب پولیس میں سوشل میڈیا کے سب سے زیادہ وائرل افسر تھے. انہیں بھی خاموش کرا دیا گیا۔ پھر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات آئیں، پولیس افسران اور اہلکاروں کے ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پر آنے پر کارروائیاں ہوئیں۔ ممتاز صحافی و کالم نگار ملک محمد سلمان کے کالم کے بعد تو دیگر محکموں، حتیٰ کہ واسا اور بیوروکریسی تک، پر بھی سوشل میڈیا پابندیاں لگ گئیں۔

    مگر سوال وہیں کا وہیں ہے. کیا یہ پابندیاں سب کے لیے ہیں؟ پولیس کے اندر یہ چہ مگوئیاں بھی عام ہیں کہ اے ایس پی شہر بانو کے دفتر اگر کوئی سائل چلا جائے تو اسے کرسی نہیں، کھڑے ہو کر انصاف ملتا ہے۔ درخواست بھی کھڑے ہو کر، کھلی کچہری بھی کھڑے ہو کر۔ نتیجہ یہ کہ سائل بھی کھڑے اور نظام بھی۔ دوسری طرف، سوشل میڈیا پر آنے کی اجازت؟ وہ کھلی ہے۔ مرد افسر یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ شاید وہ اس قابل نہیں کہ کیمرے کے سامنے آ سکیں۔ خاص طور پر رینکر افسران کے لیے تو سوشل میڈیا گویا جرمِ ناقابلِ معافی ہے۔اسی تضاد پر کبھی ایک سابق ڈی آئی جی آپریشن نے، ایک صحافی کے تعارف پر، مسکرا کر کہا تھا:
    ہماری ایک لیڈی کانسٹیبل کے بھی ملین سبسکرائبرز ہیں۔ یہ جملہ مذاق نہیں تھا، یہ سسٹم کا خلاصہ تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب پولیس میں پروفیشنل ازم کا معیار وردی سے جڑا ہے یا فالوورز کی تعداد سے؟ کیا نظم و ضبط صنف دیکھ کر بدل جاتا ہے؟
    کیا قانون صرف کمزور پر لاگو ہوتا ہے اور وائرل پر معطل ہو جاتا ہے؟
    جب تک ان سوالوں کا واضح جواب نہیں دیا جاتا، تب تک ہر نیا وائرل کلپ صرف ایک ویڈیو نہیں ہوگا، بلکہ آئی جی پنجاب کی پالیسی پر ایک اور سوالیہ نشان ہوگا۔

    Related Posts

    امریکا، ایران کشیدگی : اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 100 انڈیکس 6408پوائنٹس کی کمی

    کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کا راولاکوٹ میں سکیورٹی فورسز پرحملہ، رینجرز اہلکار شہید

    سعودی عرب پر حملہ؛ وزیراعظم شہباز شریف کی شدید مذمت، مملکت کی سلامتی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت

    مقبول خبریں

    امریکا، ایران کشیدگی : اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 100 انڈیکس 6408پوائنٹس کی کمی

    کراچی رینجرز حملہ کیس کا ماسٹر مائنڈ گرفتار قاری بشیر گرفتار: دہشت گردی کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی

    سونے ، چاندی کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی

    ہسپتال میں داخل معذور لڑکی کا گردہ نکالنے کے بعد قتل کیے جانے کا انکشاف، 3 ملزم گرفتار

    امریکا کے مسلسل تیسری رات بھی ایران پر حملے، جوابی کارروائی میں امارات کے سپر ٹینکر تباہ،بحرین پر میزائل، ڈرونز حملے

    بلاگ

    بلوچستان کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کئی شر پسند عناصرملوث اورمتحرک

    آخر مچھر مجھے ہی زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟اس کے پیچھے چھپی دلچسپ سائنس

    "تاریخ کا پہلا اور آخری جنازہ… جس میں شریک ہونے کے لیے انگریز سرکار نے ‘ٹیکس’ لگا دیا تھا!”

    گلو شاہ میلہ: تاریخ، اہمیت اور موجودہ صورتِ حال

    تاج پورہ، لکشمی چوک اور پانی والا تالاب ہمیشہ لاہور کی بارش کی سرخیوں میں کیوں سرفہرست رہتے ہیں؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.