Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      دبئی میں ایمیزون (AWS) کا ڈیٹا سینٹر ملبے کا ڈھیر، عالمی ٹیک انڈسٹری میں زلزلہ!

      جنگ،قطری فضائی حدود بند: قطر ایئرویز نے دوحہ آنے اور جانے والی تمام پروازیں معطل کر دیں

      ایپل سے بھی مہنگا،سام سنگ نے اسمارٹ فون گلیکسی ایس 26 لانچ کردیا ،جدید فیچرز شامل

      125 سی سی سے بڑی بائیک پر پابندی ، والد کا حلف نامہ لازمی: 16 سالہ کم عمر نوجوانوں کے لائسنس کا اجرا

      آئی ایم ایف سے قرض کی بھیک اور وزراء ،بیوروکریٹس کے لیے اربوں کی شاہ خرچیاں،پنجاب حکومت کا پرتعیش گاڑیوں کی خریداری کیلئے1 ارب 14 کروڑ مختص

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      دبئی ائیرپورٹ پر میزائل حملہ ، 4 زخمی

      مناما،امریکی پانچواں فلیٹ سروس سینٹر کا تازہ ترین ایرانی حملے کے بعد مکمل صفایا

      ابوظہبی ، ایرانی میزائل حملے کے بعد خوف وہراس،ایک ہلاک، شہری پناہ لینے پر مجبور

      بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان کی مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات

      شمالی وزیرستان کی ‘ننھی سپن سٹار’ نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    پنجاب پولیس: وردی ایک، اصول دو، وائرل تین رینکر افسر معطل، وائرل خاتون افسر محفوظ،کیا پروفیشنل ازم ایک کلپ سے ثابت ہو جاتا ہے؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    پنجاب پولیس میں آج کل جرائم کے خلاف نہیں بلکہ وائرل ہونے کے خلاف مقابلہ جاری ہے۔ اس مقابلے میں اس وقت دو پی ایس پی خواتین افسران کے نام نمایاں ہیں۔ ایک طرف پنجاب پولیس کے شعبہ موٹر ٹرانسپورٹ کی سربراہ ایس ایس پی ڈاکٹر انوش مسعود چوہدری اور دوسری طرف اے ایس پی شہر بانو نقوی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ڈاکٹر انوش کے وائرل کلپس ماضی کی یادگار ہیں، جبکہ اے ایس پی شہر بانو کے کلپس حال کا شور بن چکے ہیں۔ حالیہ وائرل کلپ میں اے ایس پی شہر بانو ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کر رہی ہوتی ہیں کہ اچانک SHO کی کال آتی ہے۔ کال سنتے ہی وہ میزبان سے کہتی ہیں ”مجھے کال آ رہی ہے، قتل کا واقعہ ہے، میں آتی ہوں“ اور یوں پوڈکاسٹ چھوڑ کر روانہ ہو جاتی ہیں۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ واپس آتی ہیں اور گفتگو دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔ یہ جملہ سادہ نہیں تھا، یہ جملہ پنجاب پولیس میں ایک نئی بحث چھوڑ گیا۔ سوال یہ نہیں کہ قتل ہوا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ پروفیشنل ازم کیا واقعی ایک جملے سے ثابت ہو جاتا ہے؟ یہ کلپ پنجاب پولیس کے افسران میں زیرِ بحث رہا۔ بددلی بھی پھیلی اور حیرت بھی۔ افسران نجی محفلوں میں پوچھتے دکھائی دیے کہ اگر یہی حرکت کوئی رینکر افسر کرتا تو کیا اس کا انجام معطلی نہ ہوتا؟ اگر کوئی مرد DSP یا SHO پوڈکاسٹ چھوڑ کر اس انداز میں “قتل” کا اعلان کرتا تو کیا اسے شوکاز نوٹس نہ ملتا؟ یہاں مسئلہ شہر بانو نہیں، پالیسی کا دوہرا پن ہے۔ یاد کیجیے، سابق ڈی پی او احمد محی الدین جو کبھی پنجاب پولیس میں سوشل میڈیا کے سب سے زیادہ وائرل افسر تھے. انہیں بھی خاموش کرا دیا گیا۔ پھر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات آئیں، پولیس افسران اور اہلکاروں کے ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پر آنے پر کارروائیاں ہوئیں۔ ممتاز صحافی و کالم نگار ملک محمد سلمان کے کالم کے بعد تو دیگر محکموں، حتیٰ کہ واسا اور بیوروکریسی تک، پر بھی سوشل میڈیا پابندیاں لگ گئیں۔

    مگر سوال وہیں کا وہیں ہے. کیا یہ پابندیاں سب کے لیے ہیں؟ پولیس کے اندر یہ چہ مگوئیاں بھی عام ہیں کہ اے ایس پی شہر بانو کے دفتر اگر کوئی سائل چلا جائے تو اسے کرسی نہیں، کھڑے ہو کر انصاف ملتا ہے۔ درخواست بھی کھڑے ہو کر، کھلی کچہری بھی کھڑے ہو کر۔ نتیجہ یہ کہ سائل بھی کھڑے اور نظام بھی۔ دوسری طرف، سوشل میڈیا پر آنے کی اجازت؟ وہ کھلی ہے۔ مرد افسر یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ شاید وہ اس قابل نہیں کہ کیمرے کے سامنے آ سکیں۔ خاص طور پر رینکر افسران کے لیے تو سوشل میڈیا گویا جرمِ ناقابلِ معافی ہے۔اسی تضاد پر کبھی ایک سابق ڈی آئی جی آپریشن نے، ایک صحافی کے تعارف پر، مسکرا کر کہا تھا:
    ہماری ایک لیڈی کانسٹیبل کے بھی ملین سبسکرائبرز ہیں۔ یہ جملہ مذاق نہیں تھا، یہ سسٹم کا خلاصہ تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب پولیس میں پروفیشنل ازم کا معیار وردی سے جڑا ہے یا فالوورز کی تعداد سے؟ کیا نظم و ضبط صنف دیکھ کر بدل جاتا ہے؟
    کیا قانون صرف کمزور پر لاگو ہوتا ہے اور وائرل پر معطل ہو جاتا ہے؟
    جب تک ان سوالوں کا واضح جواب نہیں دیا جاتا، تب تک ہر نیا وائرل کلپ صرف ایک ویڈیو نہیں ہوگا، بلکہ آئی جی پنجاب کی پالیسی پر ایک اور سوالیہ نشان ہوگا۔

    Related Posts

    ایک ساتھ دو چھٹیاں، سرکاری نوٹیفکیشن جاری

    ”جنگی بساط پر ‘آبنائے ہرمز’ کی بندش دنیا کو شہ مات،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں راکٹ کی طرح اوپر جائیں گی، فیکٹریاں اور کارخانے مفلوج، معشیتیں وینٹی لیٹر پر

    سرحدی کشیدگی ،سیکیورٹی الرٹ: آئی جی پنجاب کا صوبہ بھر میں ‘ڈور ناکنگ’ اور کومبنگ آپریشنز تیز کرنے کا حکم، درجنوں گرفتار

    مقبول خبریں

    ایک ساتھ دو چھٹیاں، سرکاری نوٹیفکیشن جاری

    ”جنگی بساط پر ‘آبنائے ہرمز’ کی بندش دنیا کو شہ مات،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں راکٹ کی طرح اوپر جائیں گی، فیکٹریاں اور کارخانے مفلوج، معشیتیں وینٹی لیٹر پر

    تیل کی آخری بوند اور دم توڑتی شہ رگ

    ٹرمپ کی پابندی، پینٹاگون کی بغاوت اور ‘آپریشن ایپک فیوری’: وہ خونی الگورتھم جس نے انسانی تاریخ بدل دی

    جنگ، سونے کی قیمتوں کو پر لگ گئے، کل قیمت6 ہزار ڈالر فی اونس تک جائے گی، چاندی بھی 10 ہزار روپے تولہ سے تجاوز کر گئی

    بلاگ

    تیل کی آخری بوند اور دم توڑتی شہ رگ

    ملکیت کا دفاع یا طاقت کا استعمال؟ پنجاب میں نیا قانونی موڑ

    ”افغانستان میں پاک فضائیہ کی کارروائی کارروائی“ میاں حبیب کا کالم

    غیر قانونی قبضے کالعدم، شہری ملکیتی حقوق کو آئینی تحفظ

    پولیس اصلاحات: عملی احتساب یا محض کاغذی کارروائی؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.