اسلام آباد (خصوصی رپورٹ )نوشہرہ اکوڑہ خٹک اور گرد و نواح سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان بہتر مستقبل کے خواب میں انسانی سمگلرز کے دھوکے کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گئے۔
دونوں غیر قانونی ڈنکی روٹ کے ذریعے یورپ جا رہے تھے کہ ایرانی سرزمین پر موت نے آن لیا۔جاں بحق ہونے والوں میں 16 سالہ ارمان اللہ اور 25 سالہ احتشام شامل ہیں، دونوں غریب محنت کش خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ خاندانوں کے مطابق ایک افغان ایجنٹ کو بھاری رقم ادا کی گئی، جو محفوظ منتقلی کے وعدے کے بعد غائب ہو گیا۔پاکستانی سفارت خانے نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لاشیں ایران میں ہیں اور وطن واپسی کی قانونی کارروائی جاری ہے۔ متاثرہ خاندان انصاف اور مدد کے منتظر ہیں۔یہ واقعہ انسانی سمگلنگ کے ناسور کی تلخ یاد دہانی ہے—غربت اور جھوٹے وعدوں نے دو گھروں کے چراغ بجھا دیے۔

