تحریر: اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
پشاور پولیس میں قیادت کی تبدیلی نے جرائم کے توازن میں واضح فرق پیدا کر دیا ہے۔ سابقہ پشاور پولیس سربراہان کے ادوار اور موجودہ سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ لینے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قیادت اور عزم کس حد تک جرائم کے خلاف کامیابی میں اثر ڈال سکتے ہیں۔پنجاب میں ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چھٹہ کی قیادت میں سی سی ڈی کے قیام کے بعد جرائم کی شرح میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی، تاہم عوام میں یہ تاثر عام ہوا کہ پہلے پولیس غیر فعال تھی یا جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ کسی نہ کسی حد تک ملی ہوئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیس کے پاس پہلے بھی جدید ٹیکنالوجی، وسیع وسائل اور فنڈز موجود تھے، لیکن واضح سمت اور فیصلہ کن قیادت نہ ہونے کی وجہ سے نتائج محدود اور وقتی رہ گئے۔پشاور میں صورتحال مختلف ہے۔ وسائل، فنڈز اور ٹیکنالوجی وہی ہیں جو پہلے موجود تھیں، مگر جب ڈاکٹر میاں سعید نے چارج سنبھالا، تو جرائم کے خلاف کارروائیاں ایک نئے عزم اور ولولے کے ساتھ شروع ہوئیں۔ قبضہ مافیا اور بھتہ خوروں کے خلاف بلا امتیاز، براہِ راست اور نتیجہ خیز کارروائیوں نے وہ کام کر دکھایا جو برسوں میں ممکن نہیں ہو سکا۔آدم خان اور لالی گروپس کے خلاف کارروائیوں نے جرائم پیشہ نیٹ ورک میں خوف پیدا کیا اور عوام کو یہ باور کرایا کہ اب کوئی طاقتور عنصر قانون سے بالا تر نہیں۔ سوشل میڈیا پر اس کا اثر فوری نظر آیا، فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر شہریوں نے اپنے پیغامات میں ڈاکٹر میاں سعید کے اقدامات کو سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ کارروائیوں میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور ہر روز کی رفتار میں اضافہ کیا جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلی بار پولیس نے ان کے دل کی آواز سنی ہے۔ احمد جان کے مطابق اگر پشاور جرائم سے پاک ہو گیا تو یہ ڈاکٹر میاں سعید کا شہر پر تاریخی احسان ہوگا۔ راہِ امن پارٹی کے سربراہ محمد اسلم نے کہا کہ ڈاکٹر میاں سعید کی کارروائیاں “جرائم کے خلاف عملی جہاد” کے مترادف ہیں اور چند ماہ میں حاصل ہونے والی نیک نامی کم ہی افسران کے حصے میں آتی ہے۔ماہرین پولیس اصلاحات کا مشورہ دیتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں بھی پنجاب کے سی سی ڈی ماڈل کی طرز پر ایک خصوصی فورس تشکیل دی جائے اور اس کی قیادت ڈاکٹر میاں سعید کے سپرد کی جائے۔ اگرآئی جی خیبر پختونخواہ ذوالفقار حمید یہ ماڈل صوبائی سطح پر نافذکرانے میں کامیاب ہو گئے تو نہ صرف پشاور بلکہ پورے صوبے میں جرائم کے خلاف ایک مربوط، مضبوط اور نتیجہ خیز نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔یہ واضح ہو چکا ہے کہ مسئلہ صرف وسائل یا نفری کا نہیں بلکہ قیادت، عزم اور ہدفی حکمت عملی کا ہے۔ سابقہ ادوار میں موجود تمام سہولتیں ہونے کے باوجود جرائم کے خلاف نتائج محدود رہے، جبکہ ایک متحرک اور جرات مند افسر کی قیادت نے پشاور میں قانونی اور سماجی توازن بدل دیا۔ عوام اور سوشل میڈیا صارفین دونوں ڈاکٹر میاں سعید کے شانہ بشانہ ہیں، اور ان کی کارروائیاں صوبے کے لیے ایک رہنمائی کا ماڈل بن چکی ہیں۔


