تحریر: اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پنجاب کا صنعتی دل کہلانے والا ضلع سیالکوٹ، جہاں دولت کی فراوانی ہے، اثر و رسوخ کی قطاریں ہیں اور اکثر سرکاری دفاتر میں ملاقاتیں مقصد سے زیادہ مفاد کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں۔ یہاں روایت رہی ہے کہ پولیس افسران صنعتکاروں کی آمد پر پروٹوکول بڑھاتے ہیں، قربتیں بڑھتی ہیں اور پھر یہی قربتیں ماتحت عملے کے ذریعے جائز و ناجائز کاموں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔لیکن تاریخ میں کبھی کبھار ایسے افسر بھی آ جاتے ہیں جو روایت نہیں، اصول بدلنے آتے ہیں۔ سیالکوٹ میں بطور ڈی پی او تعینات ہونے والے فیصل شہزاد انہی نایاب افسران میں سے ہیں۔ وہ افسر جنہوں نے ملاقات کو سودا نہیں، دعوتِ اصلاح بنا دیا۔ صنعتکار ہوں یا بااثر شخصیات، فیصل شہزاد کی میز پر بیٹھ کر کوئی ناجائز سفارش نہیں، بلکہ خود احتسابی کا سبق لے کر اٹھتا ہے۔ ان کی گفتگو کا اثر یہ ہے کہ لوگ برائی سے صرف دور نہیں ہوتے بلکہ نیکی کے سفر میں عملی شریک بن جاتے ہیں۔ یہی عمل صدقۂ جاریہ بن چکا ہے، جس کا ثواب دینے والے اور سمجھانے والے دونوں سمیٹ رہے ہیں۔
یہی نہیں، ڈی پی او سیالکوٹ کا دفتر طاقت اور رعب کی علامت نہیں بلکہ انصاف کی دہلیز بن چکا ہے۔ عام شہری ہو یا کوئی معزز، سب کو یکساں عزت دی جاتی ہے۔ اگر کوئی نوجوان لڑکا یا لڑکی کسی فریادی کے ساتھ دفتر آ جائے تو فیصل شہزاد کا انداز بدل جاتا ہے، سخت سوال نہیں، حوصلہ افزا گفتگو، تفتیش نہیں، مستقبل کی سمت۔ تعلیم، روزگار اور کامیابی پر بات کر کے وہ نوجوانوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ریاست کا ایک چہرہ اب بھی مہربان ہے۔ یہ صلاحیت ہر افسر کے حصے میں نہیں آتی۔ فلاحی میدان میں بھی فیصل شہزاد نے سیالکوٹ میں ایک خاموش انقلاب برپا کیا۔ یتیم بچوں کے مراکز میں رونقیں عوامی تعاون سے لوٹ آئیں۔ وہ صنعتکار جو مہنگے تحائف، لگژری گاڑیاں دینے کی امید لے کر آتے ہیں، انہیں وہ حیران رہ جاتے ہیں کہ اس پولیس افسر سے انہیں ایک مختلف درس ملتا ہے۔ اللہ جب دیتا ہے تو اکثر آنکھیں مستحق کو دیکھنا بھول جاتی ہیں، یاد رکھیں اللہ کی راہ میں دینا کبھی گھاٹا نہیں ہوتا۔ اسی سوچ کے تحت درجنوں یتیم بچوں کو بہترین تعلیمی اداروں میں داخلے دلوائے گئے، تاکہ وہ کل کے باعزت شہری بن سکیں۔ مستحق افراد کی خاموشی سے مدد کرنے کا درس اور انصاف کے متلاشی افراد کے لیے بھی فیصل شہزاد کا رویہ محض رسمی نہیں۔ اگر انہیں کسی مظلوم کے بارے احساس ہو کہ وہ بھاری فیس کے باعث کیس نہیں لڑ سکتا تو ڈی پی او ذاتی طور پر بار کے صدر عرفان اللہ وڑائچ سے رابطہ کر کے مفت قانونی معاونت کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں وردی قانون سے آگے بڑھ کر انسانیت کی خدمت کرتی ہے۔ یہ تسلسل سیالکوٹ میں نیا نہیں۔ اس سے قبل کپٹن (ر) مستنصر فیروز نے بھی کرائم کنٹرول کے ساتھ فلاحی اقدامات کر کے عوام کے دل جیتے، اسی لیے آج بھی سیالکوٹ کی گلیوں میں بھی ان کا ذکر احترام سے ہوتا ہے۔
فیصل شہزاد اسی روایت کو آگے نہیں بڑھا رہے، بلکہ اسے مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ یہ کالم محض خوشامد نہیں، ایک خاموش پیغام ہے۔ پنجاب کے دیگر اضلاع کے افسران کے لیے ایک واضح مثال کہ اختیار سے خوف پیدا کیا جا سکتا ہے، لیکن کردار سے تبدیلی۔ اگر ہر ڈی پی او اپنے دفتر کو خدمت، اصلاح اور مساوات کا مرکز بنا لے تو پولیس کا تصور ہی بدل سکتا ہے۔




