Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      آواز سے دوگنی رفتار والا طیارہ، سفر کا وقت 70 فیصد تک کم کرنے کا منصوبہ

      زمین سے 7.5 نوری سال دور دنیا پر پانی کے بادلوں میں تبدیلی کی پہلی تصدیق

      مصنوعی ذہانت کا کمال: جیف بیزوز کی حیران کن پیشگوئی، لوگ ہفتے میں صرف 3 دن کام کرکے بھی شاندار کمائی کر سکیں گے

      ایپل کا تاریخی قدم: پہلی بار ٹچ اسکرین میک بُک کی تیاری

      کیسا ہوگا سام سنگ کا جدید ترین فون? گلیکسی ایس 27 الٹرا کے نئے ڈیزائن، طاقتور بیٹری اور شاندار فیچرز سے متعلق تفصیلات لیک

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    سیالکوٹ میں روایت ٹوٹ گئی، اصول بولنے لگے ایک ڈی پی او، ایک سوچ، پورا ضلع متاثر،جب ملاقات سفارش نہیں، اصلاح بن جائے،، فیصل شہزاد کی منفرد قیادت

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: اسد مرزا

    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پنجاب کا صنعتی دل کہلانے والا ضلع سیالکوٹ، جہاں دولت کی فراوانی ہے، اثر و رسوخ کی قطاریں ہیں اور اکثر سرکاری دفاتر میں ملاقاتیں مقصد سے زیادہ مفاد کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں۔ یہاں روایت رہی ہے کہ پولیس افسران صنعتکاروں کی آمد پر پروٹوکول بڑھاتے ہیں، قربتیں بڑھتی ہیں اور پھر یہی قربتیں ماتحت عملے کے ذریعے جائز و ناجائز کاموں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔لیکن تاریخ میں کبھی کبھار ایسے افسر بھی آ جاتے ہیں جو روایت نہیں، اصول بدلنے آتے ہیں۔ سیالکوٹ میں بطور ڈی پی او تعینات ہونے والے فیصل شہزاد انہی نایاب افسران میں سے ہیں۔ وہ افسر جنہوں نے ملاقات کو سودا نہیں، دعوتِ اصلاح بنا دیا۔ صنعتکار ہوں یا بااثر شخصیات، فیصل شہزاد کی میز پر بیٹھ کر کوئی ناجائز سفارش نہیں، بلکہ خود احتسابی کا سبق لے کر اٹھتا ہے۔ ان کی گفتگو کا اثر یہ ہے کہ لوگ برائی سے صرف دور نہیں ہوتے بلکہ نیکی کے سفر میں عملی شریک بن جاتے ہیں۔ یہی عمل صدقۂ جاریہ بن چکا ہے، جس کا ثواب دینے والے اور سمجھانے والے دونوں سمیٹ رہے ہیں۔

    یہی نہیں، ڈی پی او سیالکوٹ کا دفتر طاقت اور رعب کی علامت نہیں بلکہ انصاف کی دہلیز بن چکا ہے۔ عام شہری ہو یا کوئی معزز، سب کو یکساں عزت دی جاتی ہے۔ اگر کوئی نوجوان لڑکا یا لڑکی کسی فریادی کے ساتھ دفتر آ جائے تو فیصل شہزاد کا انداز بدل جاتا ہے، سخت سوال نہیں، حوصلہ افزا گفتگو، تفتیش نہیں، مستقبل کی سمت۔ تعلیم، روزگار اور کامیابی پر بات کر کے وہ نوجوانوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ریاست کا ایک چہرہ اب بھی مہربان ہے۔ یہ صلاحیت ہر افسر کے حصے میں نہیں آتی۔ فلاحی میدان میں بھی فیصل شہزاد نے سیالکوٹ میں ایک خاموش انقلاب برپا کیا۔ یتیم بچوں کے مراکز میں رونقیں عوامی تعاون سے لوٹ آئیں۔ وہ صنعتکار جو مہنگے تحائف، لگژری گاڑیاں دینے کی امید لے کر آتے ہیں، انہیں وہ حیران رہ جاتے ہیں کہ اس پولیس افسر سے انہیں ایک مختلف درس ملتا ہے۔ اللہ جب دیتا ہے تو اکثر آنکھیں مستحق کو دیکھنا بھول جاتی ہیں، یاد رکھیں اللہ کی راہ میں دینا کبھی گھاٹا نہیں ہوتا۔ اسی سوچ کے تحت درجنوں یتیم بچوں کو بہترین تعلیمی اداروں میں داخلے دلوائے گئے، تاکہ وہ کل کے باعزت شہری بن سکیں۔ مستحق افراد کی خاموشی سے مدد کرنے کا درس اور انصاف کے متلاشی افراد کے لیے بھی فیصل شہزاد کا رویہ محض رسمی نہیں۔ اگر انہیں کسی مظلوم کے بارے احساس ہو کہ وہ بھاری فیس کے باعث کیس نہیں لڑ سکتا تو ڈی پی او ذاتی طور پر بار کے صدر عرفان اللہ وڑائچ سے رابطہ کر کے مفت قانونی معاونت کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں وردی قانون سے آگے بڑھ کر انسانیت کی خدمت کرتی ہے۔ یہ تسلسل سیالکوٹ میں نیا نہیں۔ اس سے قبل کپٹن (ر) مستنصر فیروز نے بھی کرائم کنٹرول کے ساتھ فلاحی اقدامات کر کے عوام کے دل جیتے، اسی لیے آج بھی سیالکوٹ کی گلیوں میں بھی ان کا ذکر احترام سے ہوتا ہے۔

    فیصل شہزاد اسی روایت کو آگے نہیں بڑھا رہے، بلکہ اسے مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ یہ کالم محض خوشامد نہیں، ایک خاموش پیغام ہے۔ پنجاب کے دیگر اضلاع کے افسران کے لیے ایک واضح مثال کہ اختیار سے خوف پیدا کیا جا سکتا ہے، لیکن کردار سے تبدیلی۔ اگر ہر ڈی پی او اپنے دفتر کو خدمت، اصلاح اور مساوات کا مرکز بنا لے تو پولیس کا تصور ہی بدل سکتا ہے۔

    Related Posts

    "اٹک پل پر اٹکے پہلوانوں کی واپسی، 240 پش اپس لگا کر آفتاب پھلرواں بازی لے گئے”

    ملتان: وہاڑی چوک کے قریب پلاسٹک کے گودام میں خوفناک آتشزدگی، فائر فائٹنگ آپریشن جاری

    پشاور میں گورنر راج کا پہلا دن: صوبہ مفلوج، تعلیمی ادارے بند اور سیاسی ہلچل

    مقبول خبریں

    "اٹک پل پر اٹکے پہلوانوں کی واپسی، 240 پش اپس لگا کر آفتاب پھلرواں بازی لے گئے”

    دہلی میٹرو میں سیٹ کا تنازعہ: معمولی تکرار پر 48 سالہ شخص کی موت، سابق آئی اے ایس افسر اور وکیل بیٹا گرفتار

    بپاشا باسو کی چھ سال بعد اسکرین پر واپسی، ہنسل مہتا کی نئی ویب سیریز میں جلوہ گر ہوں گی

    رات گئے کھانا کھانے سے جگر کے امراض کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے: طبی تحقیق

    ملتان: وہاڑی چوک کے قریب پلاسٹک کے گودام میں خوفناک آتشزدگی، فائر فائٹنگ آپریشن جاری

    بلاگ

    انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز: ادب، قلم اور فکری شعور کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت

    حکمرانوں کیلئے ایک نہ بھولنے والا اور انمٹ سبق۔!!!

    پاکستان کا سوال: عوام کے لیے سوچنے والا مخلص قیادت کا خواب کب پورا ہوگا؟

    ریت کی دیوار پر بیٹھا پختونخوا کا اقتدار اور آرٹیکل 232 کی گونج

    اکیس سال بعد بھی ایک ہی سوال، آخر ہم کب سنبھلیں گے؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.