تحریر: اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
یہ محض ایک دوہرے قتل کا مقدمہ نہیں، بلکہ وردی کے تقدس، ادارہ جاتی خاموشیوں اور پیشہ ورانہ تفتیش کی اصل طاقت کا کڑا امتحان ہے۔ یہ کہانی اس نظام کو آئینہ دکھاتی ہے جس میں ایک پولیس افسر، اپنی ہی بیوی اور کمسن بیٹی کے قتل کے بعد، پورے اطمینان کے ساتھ ڈیوٹی انجام دیتا رہا، افسران سے ملتا رہا، کورس کی تیاری کرتا رہا اور خود کو ایک مظلوم شوہر اور باپ کے طور پر پیش کرتا رہا۔ ڈی ایس پی عثمان حیدر نے 25 ستمبر کو رنگ روڈ پر اپنی ہی سرکاری گاڑی میں فائرنگ کر کے اپنی بیوی اور بیٹی کو قتل کیا۔ واردات کے وقت بیوی فرنٹ سیٹ پر جبکہ کمسن بیٹی بیک سیٹ پر موجود تھی۔ قتل کے بعد اس نے پہلے بیوی کی لاش دفنائی اور بعد ازاں بیٹی کی لاش کاہنہ کے علاقے میلہ رام میں چھپا دی۔ یہ سب کچھ انتہائی منصوبہ بندی اور سرد مہری کے ساتھ کیا گیا۔
دوہرے قتل کے بعد ملزم نے نہ صرف گاڑی کو مکمل طور پر صاف کیا بلکہ شواہد مٹانے کی منظم کوشش بھی کی۔ اسی مرحلے پر کیس میں دو اہم کردار سامنے آتے ہیں، جن کا کردار اب تفتیش کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔ پولیس کے مطابق عثمان حیدر نے واردات کے فوراً بعد اپنے قریبی دوست شیراز عرف بوبی اور ایک باورچی سے رابطہ کیا اور مقتولہ بیوی اور بیٹی کے موبائل فون ان کے حوالے کیے۔ تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ باورچی مقتولہ کمسن بچی کا موبائل فون لے کر گجومتہ کی جانب گیا، جبکہ شیراز عرف بوبی مقتولہ بیوی کا موبائل فون لے کر غالب مارکیٹ کی طرف روانہ ہوا۔ اس منظم اقدام کا مقصد واضح طور پر یہ تاثر دینا تھا کہ ماں اور بیٹی مختلف مقامات پر موجود ہیں، تاکہ پولیس اور تحقیقاتی اداروں کو دانستہ طور پر گمراہ کیا جا سکے۔ یہی نہیں بلکہ قتل کے بعد عثمان حیدر نے شیراز عرف بوبی کو ایک پارسل بھی دیا، جس میں مقتولین کا سامان موجود تھا۔ جب اس پارسل کی جانچ کی گئی تو اس پر خون کے نشانات پائے گئے، جس کے بعد یہ معاملہ محض سہولت کاری سے بڑھ کر شواہد چھپانے کی منظم سازش کی شکل اختیار کر گیا۔ دوہرے قتل کے باوجود عثمان حیدر خود ہی اپنی بیوی اور بیٹی کے اغواء کا مقدمہ درج کرواتا رہا اور تقریباً دو ماہ تک پولیس ٹیموں کو مختلف سمتوں میں بھٹکاتا رہا۔ حیران کن طور پر، اسی دوران وہ جونئیر کمانڈ کورس کے لیے روانگی کی تیاری بھی کرتا رہا اور سرکاری گاڑی کے انتظام تک میں کامیاب رہا، جبکہ کاغذوں میں اس کی بیوی اور بیٹی “اغواء” تھیں۔ کیس کا فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب ملزم کو حراست میں لے کر ایس ایس پی انوسٹی گیشن محمد نوید کے سامنے پیش کیا گیا۔ حسبِ معمول وہ پُراعتماد تھا اور گھڑی ہوئی کہانی دہرا رہا تھا، مگر محمد نوید نے شواہد، تسلسل سے کیے گئے سوالات اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے اس بیانیے کو توڑ دیا۔ بالآخر عثمان حیدر اعترافِ جرم پر مجبور ہو گیا۔ اعتراف کے بعد ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ذیشان رضا کو حقائق سے آگاہ کیا گیا، جنہوں نے تحقیقات ایس پی ماڈل ٹاؤن ڈاکٹر ایاز کے سپرد کر دیں۔ ایس پی انوسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن کی سربراہی میں قائم خصوصی ٹیم کے سامنے ملزم نے واردات کی مکمل تفصیل بیان کی۔ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی برآمد کر لی گئی، جس سے خون کے نمونے اور دیگر اہم شواہد حاصل ہوئے، جنہوں نے کیس کو ناقابلِ تردید بنیاد فراہم کی۔
ملزم کے مطابق اس کی بیوی اور بیٹی پلاٹ لینے سمیت دیگر مالی مطالبات کر رہی تھیں، جبکہ اس کے پاس موجود رقم بہن بھائیوں کی شادیوں پر خرچ ہو چکی تھی۔ یہ جواز ایک ایسے شخص کی زبان سے نکلا جس نے بطور باپ اور شوہر اپنے ہی گھر کو قبرستان بنا دیا۔
تحقیقات میں یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ عثمان حیدر ماضی میں بھی مشکوک سرگرمیوں میں زیرِ بحث رہا۔ سابق آئی جی پنجاب کے دور میں جرائم پیشہ عناصر سے مبینہ رشوت لینے والے افسران کی فہرستوں میں اس کا نام شامل ہونا، اس کے کردار پر پہلے سے موجود سوالات کو مزید گہرا کرتا ہے۔
اب یہ مقدمہ صرف ایک فرد کے جرم تک محدود نہیں رہا بلکہ سہولت کاروں، خاموش تماشائیوں اور ابتدائی تفتیش میں غفلت برتنے والے افسران کے کردار پر بھی سوال اٹھا رہا ہے، خصوصاً ان افسران پر جنہوں نے مسخ شدہ لاشیں ملنے کے باوجود ابتدائی طور پر دفعہ 174 کے تحت کارروائی کی۔ یہ کیس اب عوامی احتساب کا استعارہ بن چکا ہے۔ سوال یہی ہے کہ کیا قانون وردی اور عہدے سے بالاتر ہو کر حرکت میں آئے گا؟ کیا شیراز عرف بوبی اور باورچی جیسے کرداروں کو محض حراست تک محدود رکھا جائے گا یا انہیں بھی قانونی انجام تک پہنچایا جائے گا؟ یا پھر یہ پوری کہانی فائلوں، سفارشوں اور ادارہ جاتی خاموشیوں میں دفن ہو جائے گی؟ اس منظرنامے میں ان افسران کا کردار نمایاں ہے جنہوں نے دباؤ کے باوجود تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچانے کا راستہ اختیار کیا، خصوصاً ایس ایس پی انوسٹی گیشن محمد نوید، جن کی پیشہ ورانہ، غیر لچکدار اور شواہد پر مبنی تفتیش نے نہ صرف ایک سفاک قاتل کو بے نقاب کیا بلکہ اس کے گرد موجود سہولت کاری کے پورے دائرے کو بھی قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا


