Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      سام سنگ کے نئے ماڈلز کی تفصیلات لیک،نئے فولڈ ایبل فونز اور واچ کے اہم راز فاش، کیا کچھ نیا ہے؟

      گاڑی کا انجن بار بار خراب ہو رہا ہے؟ تو اس کے پیچھے ‘پیٹرولیم مافیا’ کا خطرناک کھیل ہے!چشم کشا رپورٹ

      دنیا بھر میں فیس بک ڈاؤن: پاکستان سمیت لاکھوں صارفین سروس سے محروم

      اے آئی کے میدان میں بازی پلٹ گئی: ایپل کی واپسی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی کون؟

      ویوو X300 FE کی پاکستان میں انٹری؛ 5000 نٹس برائٹنس اور 6500mAh بیٹری کے ساتھ نیا ریکارڈ

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    چرب زبانی، اثر و رسوخ اور پھر گرفت: پولیس افسران کے لاڈلے افسر کو بریک کس نے کیا،، اصل کہانی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    یہ محض ایک دوہرے قتل کا مقدمہ نہیں، بلکہ وردی کے تقدس، ادارہ جاتی خاموشیوں اور پیشہ ورانہ تفتیش کی اصل طاقت کا کڑا امتحان ہے۔ یہ کہانی اس نظام کو آئینہ دکھاتی ہے جس میں ایک پولیس افسر، اپنی ہی بیوی اور کمسن بیٹی کے قتل کے بعد، پورے اطمینان کے ساتھ ڈیوٹی انجام دیتا رہا، افسران سے ملتا رہا، کورس کی تیاری کرتا رہا اور خود کو ایک مظلوم شوہر اور باپ کے طور پر پیش کرتا رہا۔ ڈی ایس پی عثمان حیدر نے 25 ستمبر کو رنگ روڈ پر اپنی ہی سرکاری گاڑی میں فائرنگ کر کے اپنی بیوی اور بیٹی کو قتل کیا۔ واردات کے وقت بیوی فرنٹ سیٹ پر جبکہ کمسن بیٹی بیک سیٹ پر موجود تھی۔ قتل کے بعد اس نے پہلے بیوی کی لاش دفنائی اور بعد ازاں بیٹی کی لاش کاہنہ کے علاقے میلہ رام میں چھپا دی۔ یہ سب کچھ انتہائی منصوبہ بندی اور سرد مہری کے ساتھ کیا گیا۔
    دوہرے قتل کے بعد ملزم نے نہ صرف گاڑی کو مکمل طور پر صاف کیا بلکہ شواہد مٹانے کی منظم کوشش بھی کی۔ اسی مرحلے پر کیس میں دو اہم کردار سامنے آتے ہیں، جن کا کردار اب تفتیش کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔ پولیس کے مطابق عثمان حیدر نے واردات کے فوراً بعد اپنے قریبی دوست شیراز عرف بوبی اور ایک باورچی سے رابطہ کیا اور مقتولہ بیوی اور بیٹی کے موبائل فون ان کے حوالے کیے۔ تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ باورچی مقتولہ کمسن بچی کا موبائل فون لے کر گجومتہ کی جانب گیا، جبکہ شیراز عرف بوبی مقتولہ بیوی کا موبائل فون لے کر غالب مارکیٹ کی طرف روانہ ہوا۔ اس منظم اقدام کا مقصد واضح طور پر یہ تاثر دینا تھا کہ ماں اور بیٹی مختلف مقامات پر موجود ہیں، تاکہ پولیس اور تحقیقاتی اداروں کو دانستہ طور پر گمراہ کیا جا سکے۔ یہی نہیں بلکہ قتل کے بعد عثمان حیدر نے شیراز عرف بوبی کو ایک پارسل بھی دیا، جس میں مقتولین کا سامان موجود تھا۔ جب اس پارسل کی جانچ کی گئی تو اس پر خون کے نشانات پائے گئے، جس کے بعد یہ معاملہ محض سہولت کاری سے بڑھ کر شواہد چھپانے کی منظم سازش کی شکل اختیار کر گیا۔ دوہرے قتل کے باوجود عثمان حیدر خود ہی اپنی بیوی اور بیٹی کے اغواء کا مقدمہ درج کرواتا رہا اور تقریباً دو ماہ تک پولیس ٹیموں کو مختلف سمتوں میں بھٹکاتا رہا۔ حیران کن طور پر، اسی دوران وہ جونئیر کمانڈ کورس کے لیے روانگی کی تیاری بھی کرتا رہا اور سرکاری گاڑی کے انتظام تک میں کامیاب رہا، جبکہ کاغذوں میں اس کی بیوی اور بیٹی “اغواء” تھیں۔ کیس کا فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب ملزم کو حراست میں لے کر ایس ایس پی انوسٹی گیشن محمد نوید کے سامنے پیش کیا گیا۔ حسبِ معمول وہ پُراعتماد تھا اور گھڑی ہوئی کہانی دہرا رہا تھا، مگر محمد نوید نے شواہد، تسلسل سے کیے گئے سوالات اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے اس بیانیے کو توڑ دیا۔ بالآخر عثمان حیدر اعترافِ جرم پر مجبور ہو گیا۔ اعتراف کے بعد ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ذیشان رضا کو حقائق سے آگاہ کیا گیا، جنہوں نے تحقیقات ایس پی ماڈل ٹاؤن ڈاکٹر ایاز کے سپرد کر دیں۔ ایس پی انوسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن کی سربراہی میں قائم خصوصی ٹیم کے سامنے ملزم نے واردات کی مکمل تفصیل بیان کی۔ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی برآمد کر لی گئی، جس سے خون کے نمونے اور دیگر اہم شواہد حاصل ہوئے، جنہوں نے کیس کو ناقابلِ تردید بنیاد فراہم کی۔
    ملزم کے مطابق اس کی بیوی اور بیٹی پلاٹ لینے سمیت دیگر مالی مطالبات کر رہی تھیں، جبکہ اس کے پاس موجود رقم بہن بھائیوں کی شادیوں پر خرچ ہو چکی تھی۔ یہ جواز ایک ایسے شخص کی زبان سے نکلا جس نے بطور باپ اور شوہر اپنے ہی گھر کو قبرستان بنا دیا۔
    تحقیقات میں یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ عثمان حیدر ماضی میں بھی مشکوک سرگرمیوں میں زیرِ بحث رہا۔ سابق آئی جی پنجاب کے دور میں جرائم پیشہ عناصر سے مبینہ رشوت لینے والے افسران کی فہرستوں میں اس کا نام شامل ہونا، اس کے کردار پر پہلے سے موجود سوالات کو مزید گہرا کرتا ہے۔
    اب یہ مقدمہ صرف ایک فرد کے جرم تک محدود نہیں رہا بلکہ سہولت کاروں، خاموش تماشائیوں اور ابتدائی تفتیش میں غفلت برتنے والے افسران کے کردار پر بھی سوال اٹھا رہا ہے، خصوصاً ان افسران پر جنہوں نے مسخ شدہ لاشیں ملنے کے باوجود ابتدائی طور پر دفعہ 174 کے تحت کارروائی کی۔ یہ کیس اب عوامی احتساب کا استعارہ بن چکا ہے۔ سوال یہی ہے کہ کیا قانون وردی اور عہدے سے بالاتر ہو کر حرکت میں آئے گا؟ کیا شیراز عرف بوبی اور باورچی جیسے کرداروں کو محض حراست تک محدود رکھا جائے گا یا انہیں بھی قانونی انجام تک پہنچایا جائے گا؟ یا پھر یہ پوری کہانی فائلوں، سفارشوں اور ادارہ جاتی خاموشیوں میں دفن ہو جائے گی؟ اس منظرنامے میں ان افسران کا کردار نمایاں ہے جنہوں نے دباؤ کے باوجود تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچانے کا راستہ اختیار کیا، خصوصاً ایس ایس پی انوسٹی گیشن محمد نوید، جن کی پیشہ ورانہ، غیر لچکدار اور شواہد پر مبنی تفتیش نے نہ صرف ایک سفاک قاتل کو بے نقاب کیا بلکہ اس کے گرد موجود سہولت کاری کے پورے دائرے کو بھی قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا

    Related Posts

    سام سنگ کے نئے ماڈلز کی تفصیلات لیک،نئے فولڈ ایبل فونز اور واچ کے اہم راز فاش، کیا کچھ نیا ہے؟

    شیخوپورہ: تھیٹر اداکارہ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار، عظمیٰ بخاری نے ملزم کی تصویر شیئر کردی

    "خون آلود کمرہ اور ہولناک چیخیں”: رحیم یار خان اجتماعی زی ادت ی کیس کے انکشافات

    مقبول خبریں

    شیخوپورہ: تھیٹر اداکارہ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار، عظمیٰ بخاری نے ملزم کی تصویر شیئر کردی

    ملتان سے قادرپور راں جانے والی مرکزی سڑک بدترین خستہ حالی کا شکار

    مون سون کے نئے سلسلے کی انٹری؛محکمہ موسمیات کی 24 جولائی تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

    نورین نیازی کو نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کا نوٹس جاری، 20 جولائی کو طلب

    کیا یہ ہے قانون کی عملداری؟ 7سالہ اورنگزیب کے ہاتھوں میں ہتھکڑی، معصوم بچپن چھین لیا گیا

    بلاگ

    تحفظ کی اپیل سے قتل تک ایک جان جو بچائی جا سکتی تھی

    ایران، امریکہ جنگ اوراسرائیل

    نواب ذوالفقار خان کی قیادت سے بلوچستان میں امن کی بحالی ممکن!

    ’’امریکا ایران جنگ کا نیا مرحلہ‘‘ میاں حبیب کا کالم

    بلوچستان کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کئی شر پسند عناصرملوث اورمتحرک

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.