تحریر: اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں انتظامی کارکردگی بہتر بنانے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے متعدد اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے تبادلے کر دیے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ انٹیلی جنس رپورٹس اور فیلڈ وزٹس میں سامنے آنے والی شکایات کے بعد کیا گیا، جن میں بعض افسران کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں میں غفلت، سست روی اور عوامی مسائل کو نظرانداز کرنے کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ترقیاتی منصوبوں میں مالی بے ضابطگیوں اور کام میں تاخیر کے واقعات بھی رپورٹس کا حصہ تھے جس پر وزیرِ اعلیٰ نے سخت نوٹس لیا۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق تبادلوں کا مقصد بیوروکریسی میں جوابدہی کو یقینی بنانا اور یہ پیغام دینا ہے کہ ناقص کارکردگی برداشت نہیں کی جائے گی۔
صوبائی حکومت اس وقت دھی رانی پروگرام، پنجاب اسپیشل گیمز 2025، گرین پنجاب، صاف ستھرا پنجاب، بیوٹیفیکیشن منصوبوں، تھل ایکسپریس وے، اپنی چھت اپنا گھر اسکیم، پنجاب سٹیز پروگرام (PCP)، ماڈل ویلجز اور فارماسیوٹیکل زون سمیت متعدد بڑے عوامی اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ حکومت نے پنجاب کے 52 شہروں میں جاری پراجیکٹس کی تکمیل کے لیے 30 جون کی حتمی تاریخ مقرر کی ہے، اور وزیرِ اعلیٰ کی ہدایت ہے کہ اس ڈیڈ لائن میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ بیوروکریسی کے علاوہ پولیس محکمے میں بھی شکایات موصول ہونے پر کارروائی کی گئی۔ عوامی نمائندوں اور شہریوں کی جانب سے بعض پولیس افسران کے نامناسب رویے اور جائز کاموں میں تاخیر کی شکایات کے بعد متعدد افسران کے تبادلے کیے گئے، جبکہ کچھ آر پی اوز اور ڈی پی اوز نے بیرونِ ملک جانے اور ذاتی وجوہات پر آئی جی پنجاب سے درخواست کر کے خود تبادلے کروائے۔ وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ پولیس کا بنیادی کام عوام کی خدمت ہے اور اس میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ دوسری جانب بہتر کارکردگی دکھانے والے افسران کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی ہے۔ جرائم کے خاتمے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے میں نمایاں کارکردگی کے باعث سی پی او گوجرانوالہ رانا ایاز سلیم کو آر پی او ساہیوال تعینات کیا گیا ہے، جسے حکومتی سطح پر میرٹ کی بالادستی کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ انتظامی حلقوں کے مطابق اگر افسران کی تعیناتیوں میں ان کا پیشہ ورانہ ریکارڈ باقاعدگی سے دیکھا جائے اور میرٹ کو بنیاد بنایا جائے تو نہ صرف حکومتی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ عوام کا اعتماد بھی اداروں پر بحال ہوگا۔ ماضی میں بعض معاملات میں کم تجربہ کار افسران کو اہم ذمہ داریاں دینے سے مسائل پیدا ہوئے، تاہم موجودہ اقدامات کو ان غلطیوں کی اصلاح قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں پہلی بار ایسی انتظامی پالیسی سامنے آئی ہے جس میں اختیارات کے بجائے کارکردگی کو معیار قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل تیز ہوگی بلکہ ایک فعال اور جوابدہ بیوروکریسی بھی تشکیل پائے گی۔


