تحریر: اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
سنٹرل پولیس آفس لاہور میں چیئرمین ٹرانسپورٹرز متحدہ ایکشن کمیٹی عصمت اللہ نیازی نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سے ملاقات کی، جس میں ٹرانسپورٹ انڈسٹری کو درپیش مسائل، ٹریفک قوانین کے نفاذ اور حالیہ واقعات کے پس منظر میں پولیس کے طرزِ عمل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر سمیت سینئر افسران بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران آئی جی پنجاب نے ٹرانسپورٹرز کو یقین دہانی کرائی کہ مکمل دستاویزات رکھنے والے اور قانون کے مطابق سفر کرنے والے ڈرائیورز و ٹرانسپورٹرز کے خلاف کسی قسم کی چالان، ایف آئی آر یا قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ یہ مؤقف خود بخود اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس سے قبل ٹرانسپورٹرز کے خلاف جو مقدمات درج کیے گئے یا کارروائیاں کی گئیں، وہ قانونی و انتظامی سوالات پیدا کرتی ہیں۔ دوسری جانب پنجاب کے عام شہریوں کو اسی نظام میں معمولی خلاف ورزیوں یا اختیاری تشریحات کی بنیاد پر مقدمات اور سخت کارروائیوں کا سامنا رہتا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ قانون کا اطلاق دو مختلف پیمانوں پر ہو رہا ہے۔ آئی جی پنجاب نے گفتگو میں یقین دہانی کرائی کہ گاڑیوں کے اسٹینڈز، روٹ پرمٹ، ٹال ٹیکس، فٹنس سرٹیفکیٹ اور مال بردار گاڑیوں کے اغوا و سامان لوٹنے جیسے مسائل متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر حل کیے جائیں گے، جبکہ ایسے واقعات کی ایف آئی آرز بھی بروقت درج کی جائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چیئرمین ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کل آئی جی موٹر ویز سے ملاقات کریں گے، تاکہ موٹر وے سے متعلق مسائل بھی فوری طور پر حل کیے جا سکیں۔ پنجاب پولیس نے ٹرانسپورٹرز کی شکایات کے لیے ایک فوکل پرسن بھی مقرر کر دیا ہے، جو ناجائز چالان، بدعنوانی یا غیر ضروری تنگ کرنے سے متعلق تمام شکایات سن کر فوری کارروائی کرے گا۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق آج ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد کی پیشرفت کے لیے جمعہ کے روز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن اور آئی جی پنجاب کے درمیان فالو اپ میٹنگ بھی ہوگی۔ اس تمام پیشرفت نے ٹرانسپورٹرز کو ریلیف فراہم کیا ہے، تاہم عام شہریوں کو اب بھی یہ سوال درپیش ہے کہ اگر مکمل دستاویزات رکھنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف کارروائی بند کی جا سکتی ہے تو عام شہری جن کے پاس مکمل کاغذات، لائسنس اور ہیلمٹ ہوتے ہوئے بھی مختلف شقوں کے تحت مقدمات درج کیے جاتے ہیں، انہیں کب یہی سہولت میسر آئے گی؟ پنجاب میں قانون کے دوہرے اطلاق کا یہ تاثر مستقبل میں مزید سوالات کو جنم دے رہا ہے۔


