Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      قدرت کا ایک اور معجزہ؛ سمندر کی گہرائیوں میں چھپا ایسا راز جو آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا!

      گوگل کا بڑا اعلان، نیوز ویب سائٹس اور خبر رساں اداروں کیلئے خوشخبری

      اسرائیل کا ایک اور گھناؤنا روپ بے نقاب: آن لائن اشتہارات کے ذریعے انٹرنیٹ صارفین کی جاسوسی کا انکشاف

      برصغیر میں ہوابازی کی تاریخ کا سنہری دن: کراچی اور ممبئی کے درمیان پہلی پرواز کو 94 سال بیت گئے

      جرمن پولیس کی کارروائی: 16 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنے کے الزام میں روبوٹ تحویل میں

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    کیا بانی سعودی عرب یا برطانیہ جانے کو تیار ہونگے ؟ بڑی وجہ سامنے آگئی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    پاکستان کی سیاست میں رہنماؤں کی حکمتِ عملی اکثر فیصلہ کن موڑ پر پوری جماعت کے مستقبل کا تعین کرتی ہے۔ ایسا ہی معاملہ بانیِ تحریک انصاف کے ساتھ بھی جڑا ہے۔ ماضی میں انہیں بیرونِ ملک منتقل ہونے یا کم از کم بنی گالا میں سیاسی حد بندی قبول کرنے کی پیشکش ہوئی تھی، مگر انہوں نے اس تجویز کو مسترد کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ وہ 2000 میں نواز شریف کی طرح کسی معاہدے کے تحت ملک نہیں چھوڑیں گے۔ اس وقت ان کی حکمتِ عملی مزاحمت پر مبنی تھی، جس کا مقصد تھا کہ طاقت ور حلقوں کے تمام دباؤ کے باوجود پسپائی اختیار نہ کی جائے۔ تاہم اس فیصلے کے اثرات جلد ہی تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے میں نظر آئے۔ 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پارٹی کو شدید ریاستی دباؤ، گرفتاریوں اور ٹوٹ پھوٹ کا سامنا ہوا۔ مرکزی قیادت ایک ایک کر کے علیحدہ ہوتی گئی، بعض نئے سیاسی گروہوں کی طرف چلی گئی، جبکہ کئی رہنماؤں نے سیاسی سرگرمیاں ترک کر دیں۔ بالآخر پارٹی کے اندر نئی اور نسبتاً کم تجربہ کار قیادت سامنے آئی، جس نے عملی فیصلوں میں مرکزی کردار سنبھال لیا۔ یہ صورتِ حال سیاسی حکمتِ عملی کے اعتبار سے شدید کمزوری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ایسے مواقع پر لچک دکھانا کبھی کبھار سخت مؤقف سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔نواز شریف نے 1999 میں مشرف دور میں سعودی عرب جاکر دس سالہ معاہدہ قبول کیا۔ ابتدا میں اس فیصلے کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا، مگر یہی واپسی ان کے لیے 2007 میں سیاسی ری انٹری کا سبب بنی۔ اسی طرح بینظیر بھٹو نے 2006 میں میثاقِ جمہوریت (چارٹر آف ڈیموکریسی) پر دستخط کر کے جلاوطنی کے بعد سیاسی واپسی کا راستہ بنایا، جو بعد میں ان کی پارٹی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔ اس تناظر میں اگر آج بانیِ پی ٹی آئی کے سامنے سعودی عرب یا برطانیہ جانے کی کوئی تجویز آتی ہے تو اسے محض ’’باہرجانے‘‘ کا فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ وہ سیاسی وقفہ بھی ہو سکتا ہے جو تحریک انصاف کو ناقابلِ برداشت ریاستی دباؤ سے نکال کر دوبارہ منظم ہونے کا موقع دے۔
    پارٹی کے ہزاروں کارکن جو جیلوں میں ہیں یا روزمرہ دباؤ کا شکار ہیں، ان کے لیے بھی یہ فیصلہ ریلیف کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ سیاسی درجہ حرارت کم ہو گا، اور معاشی محاذ پر بھی استحکام کی گنجائش پیدا ہوگی۔ حکومت آنے والے مہینوں میں سخت اقتصادی اقدامات کرنے جا رہی ہے جن سے سیاسی ردِعمل دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں تحریک انصاف کی موجودہ قیادت اور کارکنان پر دباؤ مزید بڑھے گا۔ اگر بانی وقتی طور پر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں تو یہ پسپائی نہیں، بلکہ سیاسی ری اسٹرکچرنگ کا موقع ہو سکتا ہے۔ سیاست کا سبق یہی ہے کہ اصول اہم ہیں، مگر وقت کی ضرورتیں اس سے زیادہ اہم ثابت ہوتی ہیں۔ نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے یہی حکمتِ عملی اپنائی اور بعد میں اسی بنیاد پر بڑی سیاسی واپسی کی۔ آج تحریک انصاف بھی اسی موڑ پر کھڑی ہے — جہاں لچک کا فیصلہ شاید سیاسی بقا کی ضمانت بن جائے۔

    Related Posts

    ڈی پی او دیر بالا کی زیر صدارت کھلی کچہری کا انعقاد، امن کمیٹی کے مشران کی شرکت

    "وہ کون ہے”?اسٹیبلشمنٹ کے سہارے سیاست کرنیوالے ایک سیاسی جماعت کے سربراہ گورنرشپ نہ ملنے پر ناراض ہیں، محسن نقوی

    سونا چاندی پھر اوپر

    مقبول خبریں

    "وہ کون ہے”?اسٹیبلشمنٹ کے سہارے سیاست کرنیوالے ایک سیاسی جماعت کے سربراہ گورنرشپ نہ ملنے پر ناراض ہیں، محسن نقوی

    سونا چاندی پھر اوپر

    خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف اپوزیشن اتحادکا پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنیکا اعلان

    ساہیوال میں ترقی کا نیا سورج: وزیراعلیٰ مریم نواز کی عوامی سمندر میں اینٹری، 5 ارب 61 کروڑ کے 4 میگا پراجیکٹس کا تحفہ

    AIتصویریں،ویڈیوز بنانے والے کان کھول کر سن لیں، ” ماں بہن کی عزت اچھالی تو معافی نہیں ملے گی”، علی ناصر رضوی DG NCCIA

    بلاگ

    ہائی ویز پر تیز ایل ای ڈی لائٹس؛ روشنی یا موت کا سامان؟

    ہماری خاموشی اور معاشرے میں دن بدن پروان چڑھتی ہوئی نا انصافی

    ​”ناکامی کا ذمہ دار کون۔۔۔؟” میاں حبیب کا کالم

    آئین کی بالادستی، سیاسی رواداری اور مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں

    انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز: ادب، قلم اور فکری شعور کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.