لاہور:خشک ناریل یا گری جو اکثر میٹھے کی ڈشز میں استعمال کی جاتی ہے کے بھی اپنے فوائد ہیں لیکن جن لوگوں کو صحت کے کچھ مسائل ہیں انہیں خشک ناریل کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔ آئیے جانتے ہیں خشک ناریل سے کن لوگوں کو پرہیز کرنا چاہیے…
خشک ناریل کے صحت کے فوائد
تھکاوٹ اور کمزوری کے شکار افراد کے لیے خشک ناریل فائدہ مند ہے۔ خشک ناریل میں موجود کیلوریز اور صحت بخش چربی توانائی کا ایک اچھا ذریعہ ہیں۔ اسے کھانے سے تھکاوٹ کم ہوتی ہے۔ خشک ناریل میں موجود غذائی اجزاء مدافعتی نظام کو بڑھانے میں مدد کرتے ہیں۔ خشک ناریل کیلشیم اور میگنیشیم کا ایک اچھا ذریعہ ہے، جو ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مدد کرتا ہے۔
نظام ہضم کے ا مراض میں مبتلا افراد
نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق، حساس نظام ہضم والے افراد کو خشک ناریل کھاتے وقت احتیاط برتنی چاہیے۔ زیادہ خشک ناریل کھانے سے جسم میں صفرا بڑھ سکتا ہے۔ جس سے پیٹ میں درد، جلن، گیس اور تیزابیت ہو سکتی ہے۔ جبکہ کئی دفعہ دائمی قبض کے مریضوں کو بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ لہذا نظام ہضم کے امراض میں مبتلا افراد خشک ناریل اول تو نہ کھائیں اگر کھاناہو تو بہت کم مقدار میں استعمال کریں
وزن میں کمی کے لئے ڈائیٹنگ کرنیوالےافراد
بہت سے لوگ ان دنوں بڑھتے وزن کوکم کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ماہر غذائیت کے مشورے سے ڈائیٹنگ کررہے ہیں انہیں خشک ناریل کھاتے وقت احتیاط کرنی چاہیے۔ خشک ناریل میں کیلوریز اور چکنائی ہوتی ہے۔ اس لیے خشک ناریل کھانے سے وزن بڑھ سکتا ہے۔ اسے اعتدال میں کھائیں یا اس سے مکمل پرہیز کریں۔
دل کے مرض میں مبتلا افراد
خشک ناریل میں صحت مند چکنائی ہوتی ہے۔ تاہم اس کا زیادہ استعمال دل کی بیماری میں مبتلا افراد کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے اسے اعتدال میں استعمال کرنا چاہیےیا مناسب مشورہ کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
بلڈ شوگر لیول بڑھنے کا خطرہ
خشک ناریل میں قدرتی شکر موجود ہوتی ہے۔ اس لیے ذیابیطس کے شکار افراد کو خشک ناریل کا استعمال کرتے وقت محتاط رہنا چاہیے۔ اس کا بہت زیادہ کھانا خون میں شوگر کی سطح کو بڑھا سکتا ہےماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا زیادہ مقدار میں استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

