میلبورن: زندہ کی کوئی قدر نہیں کرتافنکارکو پیار مر کرہی ملتا ہے،۔۔۔ دلجیت سنگھ دوسانجھ کہتے ہیں حقیقت جان لی اب دنیا چھوڑ چکا صرف موسیقی اور فن سے محبت کررہا ہوں
فلم انڈسٹری اور موسیقی کی دنیا کے میگا اسٹار دلجیت دوسانجھ جنھیں کامیابی کے ساتھ ساتھ کئی طرح کے تنازعات بھی تحفے میں ملے ۔ لیکن ان تنازعات سے وہ اب فکرمند نہیں رہتے۔ انھوں نے ’نیٹ فلکس‘ پر ایک ویڈیو ریلیز کی ہے، جس میں وہ فنکار کی زندگی میں پیش آنے والی جدوجہد کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔
دلجیت دوسانجھ نے اپنے آفیشیل ’انسٹاگرام‘ ہینڈل پر بھی ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں وہ فلم ’چمکیلا‘ کی شوٹنگ کا ذکر کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں وہ کہتے ہیں کہ ایک فنکار کو اپنی زندگی میں کئی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب تک وہ مر نہیں جاتا، یا چمکیلا کی طرح مار نہیں دیے جاتے، تب تک لوگ اسے عظیم نہیں کہتے، نہ ہی اسے پیار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’لوگ زندہ رہتے فنکار کو وہ محبت نہیں دیتے، جس کا وہ حقدار ہوتے ہیں۔ وہ محبت اسے تب ملتی ہے جب وہ اس دنیا کو چھوڑ دیتا ہے۔ زندہ فنکار کی کوئی قدر نہیں کرتا ہے۔ مرنے کے بعد ہی فنکار کے کام کی تعریف کی جاتی ہے۔‘
View this post on Instagram
دلجیت کہتے ہیں کہ دنیا ایک فلم کی طرح ہی ہے، جب تک فنکار زندہ ہے، اسے جتنا ہو سکتا ہے اتنا پریشان کیا جاتا ہے۔ اسے موت کی دھمکیاں ملتی ہیں، سماج اس کے کام کو برداشت نہیں کر پاتا۔ پھر جب وہ مر جاتا ہے، تب کہتے ہیں کہ ’اُس نے کیا شاندار گانے گائے تھے‘۔ 41 سالہ دلجیت دوسانجھ کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ دنیا کے اس پیٹرن کو سمجھ چکے ہیں اور اب وہ خود کو آزاد محسوس کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے اسے (ان حالات کو) قبول کر لیا ہے۔ میں پہلے ہی اس دنیا کو چھوڑ چکا ہوں اور مجھے کسی کی پروا نہیں ہے۔ مجھے موسیقی اور فن سے محبت ہے۔ بس یہی میں کر رہا ہوں۔

