لاہور (اسد مرزا کی رپورٹ) پنجاب حکومت نے پولیس قیادت کے وسیع پیمانے پر ازسرِنو انتظام کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد آئندہ 48 سے 72 گھنٹوں میں آر پی اوز اور ڈی پی اوز کے بڑے تبادلے متوقع ہیں۔ اعلیٰ سطحی حکومتی پینل نے تمام امیدواروں کے انٹرویوز مکمل کر لیے ہیں، اور انتظامی ذرائع کے مطابق نوٹیفکیشن کسی بھی وقت جاری ہو سکتا ہے۔
اس عمل کی رفتار اور حساسیت غیر معمولی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت امن و امان کے ڈھانچے کو تیز رفتاری سے ری شیپ کرنا چاہتی ہے۔ اہم انکشاف کے مطابق آر پی او بہاولپور رائے بابر سعید اور ڈی پی او مری آصف امین نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سے تبادلے کی درخواست کی تھی ، جبکہ آر پی او شیخوپورہ، ڈیرہ غازی خان اور ساہیوال کے ممکنہ تبادلے بھی حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ آر پی اوز کی تعیناتی کے لیے انٹرویو دینے والے سینئر افسران میں نمایاں نام شامل ہیں۔ ڈی آئی جی سہیل سکھیرا، سی پی او گوجرانوالہ رانا ایاز سلیم، ڈی آئی جی ایس پی یو غازی صلاح الدین، رانا منصورالحق، ڈی آئی جی کیپٹن لیاقت ملک، ڈی آئی جی سیکورٹی ملک اویس، فیصل علی راجہ، اظہر اکرم اور خرم شہزاد۔ یہ فہرست اشارہ کرتی ہے کہ حکومت پولیس کمان میں تجربہ، میدانِ عمل کا ریکارڈ اور جدید طرزِ حکمت عملی رکھنے والے افسران کو ترجیح دینا چاہتی ہے۔
اسی کے ساتھ صوبے کے اہم اضلاع میں نئے ڈی پی اوز کی تقرری کے لیے بھی انٹرویوز مکمل کر لیے گئے ہیں، جہاں کارکردگی، ضلعی چیلنجز اور سیکیورٹی ترجیحات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ پنجاب میں امن و امان کی نئی سمت متعین کرنے والی یہ اہم ترین تقرریاں اگلے 72 گھنٹوں میں نوٹیفکیشن کی صورت سامنے آنے کا امکان ہے، جس کے بعد صوبے کا انتظامی نقشہ واضح طور پر تبدیل ہوتا دکھائی دے گا۔


