اسلام آباد :سپریم کورٹ کے کمرۂ عدالت نمبر 3 میں ایک افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب بٹ گرام کے رہائشی عمر علی نے 18 سال بعد اپنے حق میں فیصلہ سنا اور خوشی کے شدید دباؤ سے زمین پر گر پڑے۔ انہوں نے لرزتی ہوئی آواز میں اپنے وکیل ثنااللہ زاہد سے صرف اتنا پوچھا تھا۔ کیا میرے حق میں فیصلہ ہوگیا؟
وکیل کے مختصر جواب "ہاں” نے ان کے بوڑھے دل پر ایسا بوجھ ڈالا کہ وہ وہیں بیٹھے زندگی کی آخری سانسیں لینے لگے۔
عدالتی عملہ فوری طور پر حرکت میں آیا، ابتدائی طبی امداد دی، ایمبولینس میں پولی کلینک اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن ڈاکٹرز نے بتایا کہ انہیں دل کا دورہ پڑا جس نے انہیں موقع ہی نہ دیا۔ اسپتال میں ان کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔
عمر علی کی زندگی انصاف کے حصول کی تھکا دینے والی جدوجہد میں گزری۔ 2003ء میں انہوں نے بٹ گرام میں 3 کنال اراضی خریدی تھی جس پر ہمسایہ زمین کا دعویٰ لے کر عدالت پہنچا۔ مقدمہ ماتحت عدالتوں سے ہوتا ہوا ہائیکورٹ تک پہنچا جہاں فیصلہ ان کے خلاف آگیا۔ فیصلوں، پیشیوں، تاریخوں اور انتظار میں وہ بوڑھے ہو گئے، لیکن ہمت نہ ہاری۔
2017ء میں انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ پانچ سال بعد 2022ء میں پہلی سماعت پر ہی جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ان کی اپیل منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ 18 سال بعد آخرکار انہیں وہ انصاف ملا جس کے لیے انہوں نے زندگی کھپا دی، مگر یہ خوشی ان کے دل کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوئی۔ عمر علی کا کیس اس حقیقت کا بے رحم ثبوت ہے کہ دیر سے ملنے والا انصاف اکثر انسان کی زندگی سے لمبا سفر طے کرتا ہے، اور جب فیصلہ پہنچتا ہے تو کبھی کبھی انسان اس کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہتا۔
سپریم کورٹ،کمرہ عدالت نمبر3،بٹ گرام،عمر علی،وکیل، ثنا اللہ ،عدالتی عملہ، ڈاکٹرز، پولی کلینک،بوڑھے،جسٹس اعجاز، مظاہر نقوی،انصاف،

