لاہور(بے نقاب رپورٹ)برکی کے علاقے سے ڈیڑھ ماہ قبل لاپتہ ہونے والی ڈی ایس پی عثمان حیدر کی اہلیہ اور کمسن بیٹی کا معاملہ سنگین رخ اختیار کر چکا ہے۔
گمشدگی کی اطلاع سب سے پہلے ڈی ایس پی کی سالی نے پولیس کو دی، جس نے شک ظاہر کیا کہ اس کی بہن کو قتل کیا گیا ہے اور نواسی کو کہیں غائب کر دیا گیا ہے۔ درخواست کے باوجود تفتیشی ونگ نے کارروائی میں غیر معمولی سستی دکھائی نہ اہلکار کسی عملی پیش رفت تک پہنچ سکے۔ پولیس کا رویہ ابتدا سے ہی مشکوک اور غیر سنجیدہ رہا۔ معاملہ اس وقت مزید الجھ گیا جب یہ سامنے آیا کہ ڈی ایس پی عثمان حیدر، اپنی بیوی اور بیٹی کی گمشدگی کے دوران، نہ صرف عام معمولات کے مطابق ڈیوٹی کرتے رہے بلکہ وہ ملتان میں جونئیر کمانڈ کورس پر بھی روانہ ہوگئے۔ ان کی یہ ترجیح حیران کن تھی۔ پولیس کے اپنے افسر کی اہلیہ اور بیٹی لاپتہ ہوں اور وہ کورس میں مصروف رہیں، اس طرزِ عمل پر کسی اعلیٰ افسر نے ان سے سوال تک کرنا ضروری نہ سمجھا۔
اس رویے نے سسرال والوں کے خدشات کو مزید تقویت دی تحقیقات میں ایک اور قابلِ ذکر پہلو ڈی ایس پی کی جانب سے ایف آئی آر درج کروانے میں غیر معمولی تاخیر ہے۔ وہ اپنی اہلیہ اور بیٹی کے لاپتہ ہونے کے معاملے میں خود آگے بڑھ کر رپورٹ درج کروانے میں دلچسپی نہیں لیتے رہے، جبکہ سسرال والے مسلسل الزام اٹھاتے رہے کہ یہ تاخیر کسی منصوبہ بندی یا دباؤ کا نتیجہ ہے۔اس تاخیر نے کیس میں مزید شکوک پیدا کر دیے۔ معاملہ حساس ہونے کے باعث بالآخر پنجاب کے انسپکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور نے ڈی ایس پی عثمان حیدر کو معطل کر دیا ہے۔ ابتدائی شواہد اور مشکوک رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو نہ صرف گمشدگی بلکہ ممکنہ اغوا یا قتل کے پہلوؤں کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ تفتیش میں ڈی ایس پی سے باقاعدہ پوچھ گچھ جاری ہے، جبکہ ٹیم سسرال والوں کے بیانات، دیر سے درج ہونے والی ایف آئی آر اور ڈی ایس پی کی ملتان روانگی جیسے عوامل کو بھی انتہائی اہمیت دے رہی ہے۔ اہلیہ اور بیٹی کا سراغ تاحال نہیں ملا۔ گھر والے انصاف اور تلاش کی امید کے ساتھ ہر دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں، جبکہ معاملہ پولیس کے اندرونی نظام کی خامیوں اور نگرانی میں موجود سنگین خلا کو بھی نمایاں کر رہا ہے۔

