تحریر: اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
دنیا کئی دہائیوں سے ایک تلخ حقیقت دیکھ رہی ہے: استعمال کرو، فائدہ لو، اور پھر پھینک دو یہ اصول اب طاقتور ممالک کی عملی پالیسی بنتا جا رہا ہے۔
افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے ویزے منسوخ ہونے کےبعد امریکا کواعتماد کے عالمی بحران کا سامنا ہے۔دنیا بھر میں پھیلے سی آئی اے ایجنٹس میں اپنے اور خاندان کی سلامتی کے حوالے سے تشویش کی لہر پائی جارہی ہے۔
یادرہے کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، آسٹریلیا اور بہت سے دیگرترقی یافتہ ممالک جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکا کے اتحادی تھے اب باہم تعلقات کے مستقبل کے بارے میں ناامید ہیں۔ عام خیال ہے کہ "امریکہ فرسٹ” کی پالیسی اپنے روایتی اتحادیوں کو نظر انداز کر رہی ہے ۔
امریکا اور اس کے اداروں، خصوصاً سی آئی اے نے رجیم چینج کے لئے دنیا بھرمیں ساتھیوں، مخبروں اور سہولت کاروں کا ایسا وسیع نیٹ ورک بچھا رکھا ہےجس کے تانے بانے پاکستان سمیت دنیا کے درجنوں ممالک کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں سرایت کئے ہوئے ہیں۔ سیاست، میڈیا، این جی اوز، مذہبی حلقے، کاروبار کوئی دائرہ محفوظ نہیں رہا۔
لیکن تاریخ نے ایک بار پھر خود کو دہرایا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ یعنی United States Department of State خارجہ نے اچانک فیصلہ کیا کہ تمام افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے ویزے معطل کیے جاتے ہیں۔ یہ فیصلہ صرف سفارتی اقدام نہیں؛ یہ ایک اعلان ہے کہ افغان جنگ سمیت دنیا میں کہیں بھی میں امریکا اور امریکی مفادات کا ساتھ دینے والے، اس کی خفیہ کارروائیوں میں کردار ادا کرنے والے، اور اپنے وطن کے خلاف خدمات انجام دینے والے افراد اب بوجھ سمجھ لیے گئے ہیں۔
افغان باشندے کی جانب سے نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سخت اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔یادرہےافغانستان کے صوبے خوست سے تعلق رکھنے والے رحمان اللہ لکنوال نے بدھ (26 نومبر) کو واشنگٹن میں امریکہ کے نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں کو زخمی کر دیا، واقعے میں شدید زخمی ہونے والی نیشنل گارڈز کی خاتون اہلکار 20 سالہ سارہ بیکسٹارم دم توڑ گئی تھیں۔
قندھار میں یونٹ 01 کا بھرتی شدہ رحمان اللہ سی آئی اے کے لئے کام کرتا رہا ۔ 2021 میں آپریشن الائیز ویلکم کے ذریعے اپنی بیوی اور بچوں کے ہمراہ امریکا میں داخل ہواتھا، جو بائیڈن دور کا ایک امیگریشن پروگرام تھا، جس کا مقصد ان ہزاروں افغانوں کو، جنہوں نے جنگ کے دوران امریکہ کی مدد کی تھی، طالبان فورسز کی انتقامی کارروائی سے بچانا اور آباد کرنا تھا۔ اس پروگرام کے تحت 70,000 سے زائد افغانوں کو امریکہ میں آباد کیا گیا۔
نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی حکومت نے نہ صرف افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستوں پر کارروائی روک دی ہے بلکہ 19 ممالک سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کے کیسز کی دوبارہ جانچ کا بھی کہا ہے جن کے پاس گرین کارڈ یا امریکہ میں مستقل رہائش کا اجازت نامہ ہے۔
تاہم اب اس واقعے کےبعد امریکا نے دنیا بھر اپنے ایجنٹس ہمدردوں اور کام کرنے والوں کو صاف پیغام دیا ہے کہ“ کام نکال لیا گیا، اب تمہاری ضرورت ختم ہو گئی ہے۔ تھینک یو فار یور سروسز“۔
اس اقدام کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ جن افراد نے امریکی مفادات کے لیے اپنی سرزمین، اپنے لوگ اور اپنا ضمیر بیچا اب وہ اور ان کے خاندان واپس اسی طالبان حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑے جا چکے ہیں جن کے خلاف وہ برسوں استعمال ہوتے رہے۔
اس سے بڑا سبق اور کیا ہوگا؟ یہ صورتِ حال ایک عالمی تنبیہ ہے جو قومیں دوسروں کے مفادات کے لیے اپنی مٹی سے بے وفائی کرتی ہیں، وہ آخرکار اجنبی سرزمینوں پر تنہا کھڑی رہ جاتی ہیں۔ طاقتور ممالک کی دوستی مفاد پر چلتی ہے، وفاداری پر نہیں۔
اور جب مفاد ختم ہو جائے تو انسان بھی فائل کی طرح بند کر دیا جاتا ہے۔
آج امریکا نے افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے خلاف جو قدم اٹھایا ہے، وہ دنیا بھر میں ان لاکھوں افراد کے لیے وارننگ ہے جو سمجھتے ہیں کہ غیر ملکی طاقتوں کے لیے کام کرنا تحفظ دیتا ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے جو کردار آج کارآمد ہو، کل وہی "خطرہ” بن کر واپس دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ بتا رہا ہے کہ اب وہ دور ختم ہو رہا ہے جس میں خفیہ ایجنسیاں آسانی سے دوسرے ممالک کے افراد کو خرید کر اپنے ایجنڈے پر لگا لیتی تھیں۔ کیونکہ ایک چیز باقی رہ جاتی ہے۔
غداری کی کوئی قیمت پوری نہیں ہوتی نہ وہاں، نہ یہاں۔


