رپورٹ:(ملک ظہیر نقوی) دریا خان ریلوے پھاٹک کے قریب دو پٹھان گروہوں کی برسوں پرانی دشمنی نے ایک اور قیمتی جان نگل لی۔ چند لمحوں کے غصّے اور انتقام نے وہ انجام لکھ دیا جس کا بوجھ پورا علاقہ برسوں اٹھاتا رہے گا۔
جھگڑا اس قدر تیزی سے شدت اختیار کر گیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے فائرنگ شروع ہوگئی۔ گولیوں کی بوچھاڑ میں گوشہ خان کے بھائی حسین خان پٹھان شدید زخمی ہوئے۔ انہیں فوری طور پر ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا، مگر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔ مرحوم لال خان پٹھان کے پوتے اور عبدالمنان خان و عبدالرحمن خان پٹھان کے بھائی تھے۔ گھر ماتم کدہ بن گیا، اور محلے کی گلیاں خاموش سوگ میں ڈوب گئیں۔
واقعہ کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی، شواہد اکٹھا کیے گئے اور شہر کے داخلی و خارجی راستے فوری طور پر بند کر دیے گئے۔ گشت بڑھا دیا گیا ہے، ناکہ بندی سخت ہے اور فائرنگ میں ملوث عناصر کی تلاش جاری ہے۔ یہ دشمنی نئی نہیں ڈیڑھ سال پہلے اسی تنازع میں مخالف گروہ کا ایک فرد قتل ہوا تھا۔ آج ایک اور نوجوان اس انتقامی سلسلے کی بھینٹ چڑھ گیا۔
یہ وہ زنجیر ہے جو ٹوٹتی نہیں، اور ہر نئی موت بندوق برداشت کرنے والوں کو لمحہ بھر کا غصّہ تو دے دیتی ہے، مگر آنے والی نسلوں کے لیے صرف پچھتاوا چھوڑ جاتی ہے۔
زمین، انا، مقابلہ کچھ بھی انسانی جان کے برابر نہیں۔ دشمنیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں، صرف قبریں بڑھتی ہیں۔ جو آج اس آگ کو معاملہ دونوں طرف کا سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں، کل اسی آگ کے شعلے ان کے اپنے دروازے تک پہنچ سکتے ہیں۔پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو ہر صورت کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

