پشاور: خیبرپختونخوا کے شہر پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پر حملے میں 3 ایف سی اہلکار شہید ، تینوں خودکش حملہ آور بھی مارے گئے جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سی سی پی او پشاور نے تین ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے اور تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے اس حملے میں تین ایف سی اہلکاروں سمیت آٹھ افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے میڈیا کو بتایا کہ پیر کی صبح تین حملہ آور ایف سی ہیڈکوارٹرز پہنچے، جہاں پہلے ایک حملہ آور نے گیٹ پر خود کو دھماکے سے اُڑایا جس کے بعد دو حملہ آوروں نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
سی سی پی او کے مطابق گیٹ پر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں تین ایف سی اہلکار ہلاک ہوئے جس کے بعد دو حملہ آور عمارت میں داخل ہوئے جہاں 15 سے 20 منٹ کے مقابلے کے بعد ایف سی اہلکاروں نے دونوں مسلح حملہ آوروں کو بھی ہلاک کر دیا۔
انھوں نے کہا کہ حملہ آور جدید ہتھیاروں سے لیس تھے جن کے پاس ہینڈ گرینیڈز بھی تھے۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت عمارت میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور بم ڈسپوزل سکواڈ سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔
سی سی پی او کے مطابق اس حملے میں تین ایف سی اہلکاروں سمیت پانچ سویلین زخمی بھی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹرز پر حملے میں تین اہلکاروں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے بیان میں محسن نقوی کا کہنا تھا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں نے بروقت کارروائی کر کے دہشت گردی کے منصوبے کو ناکام بنایا ہے۔وزیرِ داخلہ نے حملے میں زخمی ہونے والے افراد کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

