تحریر : اسد مرزا
جہاں لفظ بےنقاب ہوں… وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
پاکستان میں تعلیم ہمیشہ سے روشنی کی کرن سمجھی جاتی تھی، مگر اب یہ کرن والدین کی جیب کاٹ کر ہی نکلتی ہے۔ بڑے نجی اسکول سسٹمز نے ’’معیار‘‘ کے نام پر ایسا کاروباری فارمولا متعارف کرا رکھا ہے کہ پڑھائی سے پہلے والدین کو معاشی جمع تفریق آزمانی پڑتی ہے—نہ آئی تو بچہ گھر بیٹھ جاتا ہے۔
مسابقتی کمیشن کے مطابق لوگو والی نوٹ بکس 280 فیصد تک مہنگی فروخت کی جاتی ہیں۔ یعنی ایک نوٹ بک کی قیمت میں ایک ہفتے کا راشن، دو کاپیوں میں آدھا مہینہ اور مکمل اسٹیشنری میں پورا بجٹ ہلکا۔ والدین مجبور، بچے ’’یرغمال‘‘، اور اسکولوں کے برانڈز آسمانی بلندیوں پر۔ حقیقت یہ ہے کہ اس لوٹ مار نے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کو تعلیم سے محروم کر دیا ہے۔ کوئی اسکول چھوڑ کر گھر بیٹھ گیا، کوئی ’’سال فریزر‘‘ کا شکار، اور کچھ والدین تو اس امید پر بچے کو پرانا بیگ تھما دیتے ہیں کہ شاید ٹیچر کو لوگو نظر نہ آئے۔ مگر لوگو نہ بھی دیکھے، فیس ضرور نظر آ جاتی ہے۔ چھوٹے اسکول تو پہلے ہی والدین کو آہستہ آہستہ چنتے تھے، مگر بڑے اسکولوں نے یہ عمل جدید مشینری کے ساتھ کرنا شروع کر دیا ہے۔فیسیں الگ، اسٹیشنری الگ، یونیفارم الگ، اور ’’ضروری پیکجز‘‘ الگ۔ والدین ہر سال یہی سوال کرتے ہیں
اِس سال بچے کو آگے پڑھائیں یا بینک سے قرض لیں؟ اب مسابقتی کمیشن نے 17 بڑے اسکولوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے اور جرمانے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے، مگر والدین کی اکثریت اس کارروائی کو اسی نظر سے دیکھ رہی ہے جیسے وہ ہر سال ’’سالانہ نتائج‘‘ کو دیکھتے ہیں۔
اچھی رپورٹ ضرور ملے گی، مگر اصل کارکردگی شاید وہی رہے گی۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کتابیں مہنگی ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ یہ مہنگائی تعلیم سے پہلے بچوں کو ’’سلیبس سے باہر‘‘ نکال رہی ہے۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آنے والے برسوں میں ہماری قوم کے بچوں کا مستقبل داو پر لگ جائیگا


