فیصل آباد:فیصل آباد میں ایک فیکٹری میں گیس لیکیج کے باعث ہولناک دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ متعدد افراد زخمی، فیکٹری کے قریب واقع 10 مکان جزوی طور پر تباہ ہوگئے۔
جمعے کی صبح فیصل آباد کے ملک پور شہاب ٹاؤن میں کبڈی سٹیڈیم گراؤنڈ کے قریب ایک فیکٹری میں دھماکہ ہوا۔ دھماکے کی وجہ سے فیکٹری کے آس پاس کے کئی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔جاں بحق افراد میں 4 بچے اور 2 خواتین بھی شامل ہیں۔ریسکیو آفیسر کے مطابق بچوں اور خواتین سمیت 9 لاشیں دیگر گھروں کے ملبے سے ملیں۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے فیصل آباد ،کیمیکل فیکٹری میں بوائلر دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع پر اظہار افسوس کیا ہے جبکہ کمشنر فیصل آباد سے سانحہ کی رپورٹ طلب کرلی۔
دھماکے کے اثرات کے باعث فیکٹری کے آس پاس کے 10 مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ دھماکے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر الائیڈ اسپتال منتقل کردیا گیا۔ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے مزید افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کیمیکل کے باعث آگ بجھانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور اس کام کے لیے 15 فائر ٹینکرز تعینات کیے گئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کیپٹن ریٹائرڈ ندیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فیکٹری میں بوائلر موجود نہیں تھا، حادثہ گیس لیکیج کے باعث پیش آیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے پانچ رُکنی کمیٹی بنا رہے ہیں۔نے میڈیا کو بتایا کہ یہ فیکٹری گلو بنانے کی ہے اور علاقے میں قریباً 100 فیکٹریاں موجود ہیں۔ فیکٹری قریباً 25 برس پرانی ہے اور بعد میں اس کے اطراف آبادکاری ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ فیکٹری مالک کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
دوسری جانب دھماکے کی اطلاع ملتے ہی آئی جی پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے پولیس افسران کو امدادی کارروائیوں میں مکمل معاونت کی ہدایت جاری کر دی۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے ریسکیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون یقینی بنائیں جبکہ ٹریفک پولیس ایمبولینسز اور امدادی ٹیموں کی متاثرہ مقام تک رسائی میں رکاوٹ نہ آنے دے۔

