واشنگٹن: (بے نقاب رپورٹ)امریکی کانگریس کی ایک حالیہ رپورٹ میں اس بات کا باضابطہ اعتراف کیا گیا ہے کہ مئی 7 سے 10 تک جاری رہنے والی پاک-بھارت جھڑپوں میں پاکستان کو فوجی کامیابی حاصل ہوئی۔ اور رفال طیارے گرا کر پاکستان نے خطے میں فضائی طاقت کا توازن بدل دیا۔
یادرہے اس جنگ میں جدید میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوا۔
پاکستان کے زیراستعمال چینی ہتھیاروں کی کارکردگی میں برتری
رپورٹ میں خاص طور پر اس بات کا ذکرکیا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے چینی ساختہ ہتھیاروں کا استعمال، خصوصاً بھارتی فضائیہ کے فرانسیسی ساختہ رفال جیٹ طیاروں کو مار گرانے کے لیے، "ایک خاص فروخت نقطہ” (A Particular Selling Point) بن گیا۔
https://www.uscc.gov/annual-report/2025-annual-report-congress
رپورٹ کے مطابق، بھارتی فضائیہ کے حالیہ خریدے گئے، جدید ترین رفال طیارے پاکستانی حملوں کا نشانہ بنے۔ پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کل چھ بھارتی جنگی طیارے مار گرائے، جن میں کئی رفال بھی شامل تھے۔ اگرچہ بھارت نے اپنے نقصانات کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا، تاہم امریکی حکام اور بعد میں ایک بھارتی کانگریس رکن کی جانب سے بھی رفال طیاروں کے نقصان کی تصدیق کی گئی ہے۔
J-10C اور PL-15 کی کامیابی
امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے تصدیق کی کہ پاکستان نے فضائی برتری حاصل کرنے کے لیے چین کے J-10C جنگی طیاروں اور ان پر نصب PL-15 ایئر ٹو ایئر میزائلوں کا موثر استعمال کیا۔ اس کامیاب کارکردگی نے چین کے دفاعی سازوسامان کی عالمی ساکھ کو مضبوط کیا اور مغربی ہتھیاروں (جیسے رافیل) کے مقابلے میں جدید چینی ٹیکنالوجی کی افادیت کو ثابت کیا۔
فضائی جنگ میں نیا دور
۔ یہ پہلا موقع تھا جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی فضائی حدود میں داخل ہوئے بغیر، زیادہ تر میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا۔
: دونوں فریقوں نے اسرائیل میں بنے ڈُورنز (UAVs)، جیسے کہ ہاروپ اور ہیرون کے ساتھ ساتھ، چین کے CH-4 ڈرونز اور مقامی طور پر تیار کردہ ڈرونز کا بھی بڑے پیمانے پر استعمال کیا۔
چینی ہتھیاروں نے خطے میں فضائی طاقت کا توازن بدل دیا
دفاعی ماہرین کے مطابق، اس جھڑپ میں چینی ہتھیاروں کی کارکردگی نے خطے میں فضائی طاقت کے توازن (Balance of Power) کو بدلنے کے اشارے دیے ہیں۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستانی میزائلوں کی کامیابی نے امریکی دفاعی منصوبہ سازوں کو اپنے ہتھیاروں کے نظام کو جدید بنانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے نئے میزائل (جیسے AIM-260) تیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
کانگرس کی اس رپورٹ نے ثابت کردیا ہے کہ مئی 2025 کا تنازعہ روایتی فوجی تصادم سے ہٹ کر جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی جنگ کی ایک نئی مثال قائم کر گیا ہے، جہاں چین پاکستان کے لیے ایک مؤثر دفاعی پارٹنر کے طور پر سامنے آیا ہے۔

