Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      اسکول طلبہ کے لیے جنریٹو اے آئی ، چیٹ بوٹس کے استعمال پر پابندی، اسکرین ٹائم بھی محدود

      لندن دنیا کا پہلا شہر، اوبر کی روبو ٹیکسی سروس شروع

      ” پجیرو کی واپسی “ LEGEND IS BACK

      گوگل میسجز کی خرابی، پرانے پیغامات غلط افراد کو بھیجے جانے کا انکشاف

      196 ملین پاؤنڈ کا مالیاتی خسارہ: جیگوار لینڈ روور (JLR) نے پھربھی اپنی پہلی الیکٹرک لگژری گاڑی مارکیٹ میں اتار دی

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    جب دعا سنی گئی… یورپ کے کتے کے کاٹنے نے گجرات کے جمشید کی تقدیر بدل دی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: سہیل احمد رانا

    جہاں لفظ بےنقاب ہوں… وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    جب انسان مایوسی کی آخری حد پر پہنچ جائے، تو اس کے دل سے نکلی ہوئی دعا سیدھی عرش تک جا پہنچتی ہے۔ لیکن بعض اوقات دعا قبول تو ہو جاتی ہے، مگر جس انداز میں قبول ہوتی ہے، وہ بندے کے فہم سے بالاتر ہوتا ہے۔ گجرات کے ایک عام سے نوجوان جمشید کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ اس بات کی زندہ مثال ہے کہ اللہ جب دینے پر آ جائے، تو ذریعہ چاہے ایک یورپی کتا ہی کیوں نہ ہو، بندے کی تقدیر بدل کر رکھ دیتا ہے۔
    جمشید ایک عام گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ والدین بوڑھے، گھر میں غربت، بہن بھائیوں کی ضروریات اور حالات ایسے کہ کسی وقت دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہوتی تھی۔ وہ کئی بار روزگار کے لیے دربدر پھر چکا تھا، مگر قسمت جیسے بند دروازے کے پیچھے قید ہو۔ آخرکار اُس نے فیصلہ کیا کہ اب ملک چھوڑنا ہی واحد راستہ ہے۔ اس نے دوستوں سے قرض لیا، کچھ مانگا، کچھ بیچا، اور آخر ایک ایجنٹ کو رقم دے کر ’ڈنکی روٹ‘ کے ذریعے اسپین پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ سپین پہنچنے کے بعد اُس نے نئی زندگی کے خواب دیکھے۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ غیر قانونی طور پر وہاں رہنا کسی عذاب سے کم نہ تھا۔ نہ کاغذات، نہ روزگار، نہ سہولت۔ جمشید دن رات ایک ہی دعا کرتا یا اللہ! مجھے کسی طرح لیگل کر دے، کوئی کام عطا کر دے، کچھ بنا دے۔
    لیکن نوکری کا دروازہ بند اور مشکلات کے دروازے کھلے تھے۔ ایک دن وہ پریشانی کے عالم میں بازار کی طرف نکلا۔ سردی کا موسم تھا، ہاتھ جیبوں میں، آنکھوں میں خواب، اور دل میں دعا۔ چلتے چلتے اُس نے ایک کتا دیکھا لمبے بالوں والا، چمکتی آنکھوں والا۔ جمشید کو اپنے گاؤں کا کتا یاد آ گیا جس کے ساتھ وہ اکثر کھیلتا تھا۔ دل بہلانے کے لیے اُس نے اسی محبت سے اس کتے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر لی۔ مگر وہ کتا شاید مقدر کا پیغام رساں تھا۔ اگلے لمحے اُس نے جمشید کے ہاتھ پہ زور سے کاٹ لیا۔ جمشید چیخ اٹھا۔ کتے کی مالکن ایک عمر رسیدہ، خوش اخلاق خاتون — فوراً باہر آئی۔ اس نے جمشید کو زخمی حالت میں دیکھا، گاڑی نکالی، اور اُسے ہسپتال لے گئی۔ وہاں علاج ہوا، انجیکشن لگے، اور ترجمہ کرنے والے کے ذریعے بات چیت شروع ہوئی۔ خاتون نے جمشید سے پوچھا کہ وہ کون ہے، کیا کرتا ہے، یہاں کیسے آیا۔ جمشید نے اپنی پوری کہانی سنا دی غربت، قرض، ہجرت، جدوجہد، سب کچھ۔
    خاتون نے کچھ دیر سوچا اور بولی، “بیٹا، تم میرے کتے کے خلاف عدالت میں کیس کرو۔ میرے کتے کی انشورنس ہے، تمہیں معاوضہ ملے گا۔ جمشید نے ہنس کر کہا، “خاتون، میں تو یہاں غیر قانونی ہوں، عدالت میں کیا کروں گا؟ خاتون نے یقین دلایا کہ وہ سارا خرچہ خود اٹھائے گی، صرف دستخط اس کے چاہیں۔ یوں مقدمہ عدالت میں چلا۔ انشورنس کمپنی نے اپنا دفاع کیا، مگر کتے کا کاٹنا ثابت ہو گیا۔ عدالت نے فیصلہ سنایا کہ جمشید کو بطور ہرجانہ ایک لاکھ یورو ادا کیے جائیں۔ جب چیک ہاتھ میں آیا تو جمشید سمجھ نہیں پایا کہ یہ رقم آخر کتنی ہے۔ بینک میں جب اسے بتایا گیا کہ پاکستانی کرنسی میں یہ کئی کروڑ روپے بنتے ہیں، تو وہ حیرت سے گم صم بیٹھ گیا۔ ایک لمحے کے لیے اُسے یقین نہ آیا۔ اس نے وہی زخمی ہاتھ دیکھا، پھر آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ کہا
    یا اللہ، تُو نے میری سن لی… مگر یہ راستہ تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔
    اس کے دوستوں کو جب خبر ملی تو اسپین میں ایک نیا رجحان شروع ہو گیا۔ پاکستانی مزدور، جو پہلے نوکری کی تلاش میں سرگرداں تھے، اب پارکوں میں کتوں کی تلاش میں پھرنے لگے۔ کوئی کہتا، “یار، اگر ایک کاٹنے پر تقریبا تین کروڑ مل جائیں تو ہاتھ قربان!
    دوسرا کہتا، “بس کوئی انشورنس والا کتا مل جائے,
    مگر شائد انشورنس کمپنی نے تب تک سب کتوں کو سمجھا دیا تھا کہ “خبردار اب کسی پاکستانی کو نہ کاٹنا، ورنہ کمپنی بند ہو جائے گی, ادھر جمشید وہی پیسے لے کر وطن واپس آیا۔ گجرات میں جہاں کبھی غربت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے، اب خوشحالی کے چراغ جلنے لگے۔ اُس نے چند ایکڑ زمین خریدی، نیا گھر بنایا، بہن بھائیوں کی شادیوں کے خواب پورے کیے۔ پورا علاقہ حیران تھا کہ جمشید کے ہاتھ کون سا خزانہ لگ گیا۔ مگر کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہ خزانہ ایک کتے کے کاٹنے کی بدولت ملا ہے۔
    اب گجرات کی گلیوں میں جب کوئی کسی مشکل میں ہوتا ہے، تو اکثر ہنستے ہوئے کہتا ہے. یار دعا کرو، قسمت جمشید والی ہو جائے,
    اور اس سچے واقعے میں ایک عجیب سبق چھپا ہے کہ اللہ کی سنت سنائی دیتی ہے، مگر بندہ اکثر اُس کے طریقے کو پہچان نہیں پاتا۔ دعا کبھی آسمان سے بارش کی صورت میں اترتی ہے، کبھی کسی انسان کے ذریعے، اور کبھی… کسی یورپی کتے کے کاٹے ہوئے ہاتھ کے بہانے۔
    لہٰذا مایوس مت ہوں، دعا مانگیں، نیت صاف رکھیں — باقی فیصلہ اللہ اور شاید کسی انشورنس شدہ کتے پر چھوڑ دیں۔

    Related Posts

    برات کی ٹریکٹرٹرالی کوحادثہ،خاتون سمیت 5جاں بحق،خواتین وبچوں سمیت 25 زخمی

    تین دری نہر میں ڈوبنے والے تینوں نوجوانوں کی لاشیں نکال لی گئیں

    تیسرے دن نوجوان کی لاش سندھ دریا سے مل گئی

    مقبول خبریں

    برات کی ٹریکٹرٹرالی کوحادثہ،خاتون سمیت 5جاں بحق،خواتین وبچوں سمیت 25 زخمی

    تین دری نہر میں ڈوبنے والے تینوں نوجوانوں کی لاشیں نکال لی گئیں

    تیسرے دن نوجوان کی لاش سندھ دریا سے مل گئی

    قیدی خاتون ہسپتال سے نومولود بچے سمیت فرار

    کمشنر   حافظ شوکت علی کی زیرِ صدارت اجلاس

    بلاگ

    "میں لجپالاں دے لڑ لگیاں، میرے توں غم پرے رہندے” — ایک دفتر، ایک روایت اور مثبت سوچ کی خوبصورت صبح

    دہشت گردی کے خونی پنجوں میں سسکتا دیربالا کا دلکش علاقہ دوبندو

      ایلیمنٹری سکول ظفر آباد میں سالانہ محفلِ میلاد مصطفیٰ ﷺ — علم، ادب، عقیدت اور تربیت کا حسین امتزاج

    ”وزیر اعلی کا کرپشن زیرو ٹالرینس اعلان یا رانا ایاز سلیم کے ماڈل پر عمل ؟“

    پوڈکاسٹ خاموشی سے ہمارے سننے کا انداز بدل رہا ہے

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.