اسلام آباد:(حافظ نعیم سے) وفاقی کابینہ نے آئین میں 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی۔
رپورٹ کےمطابق وزیراعظم ہاؤس میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، وزیراعظم شہباز شریف باکو سے ویڈیو لنک پر اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ 27 ویں ترمیم پر کابینہ کو بریفنگ دی، اجلاس میں 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ پیش کر دیا گیا۔
سینیٹ کا اجلاس اب سے کچھ دیر بعد شروع ہوگا، وفاقی کابینہ کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اب آئینی ترمیم منظوری کے لیے سینیٹ میں پیش کر دی جائے گی۔
اجلاس ختم ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کابینہ میں 27ویں آئینی ترمیم پر بریف کیا گیا۔ آئینی ترمیم بل 48 شقوں پر مشتمل ہے، چارٹر آف ڈیموکریسی میں آئینی عدالت کے قیام کا نکتہ تھا، آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق رائے ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں ججز کے ٹرانسفر پر اعتراض اُٹھایا گیا، بل میں تجویز ہے کہ ججوں کے تبادلوں کا معاملہ جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جائے گا۔
وزیر قانون نے بتایا کہ وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی، بل کی منظوری کے لیے حکومت اتحادی جماعتوں کے ساتھ شریک ہوگی، قانون و انصاف کی مشترکہ قائمہ کمیٹی تمام جماعتوں سے رائے لے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت کے قیام سمیت دیگر معاملات پر پیپلزپارٹی سمیت دیگر اتحادی جماعتوں نے اتفاق کیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 243 میں دفاعی اُمور سے متعلق ترامیم کی تجویز دی گئی ہے جس میں فیلڈ مارشل، نیول اور ایئر چیف کے اعزازی عہدوں کا آئین میں ذکر شامل کرنے کی بھی تجویز ہے۔ جبکہ عسکری کمانڈ کے معاملات قانون کے مطابق ریگولیٹ ہوں گے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ حالیہ پاکستان اور انڈیا کشیدگی سے اہم اسباق سیکھے گئے، اس لیے فیلڈ مارشل، نیول اور اِیئر چیف کے اعزازی عہدوں کو آئین میں شامل کرنے اور قومی ہیروز کو اعزازی ٹائٹلز دینے کی تجویز بھی مسودے میں شامل ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت میں بھی وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا ذکر تھا، لہذا اس پر اب عمل درآمد کیا جائے گا۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ان ترامیم پر اپوزیشن جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا جبکہ خواہش یہ ہے کہ سینیٹ میں اس بل کو پیش کرنے کے بعد اسے مشترکہ کمیٹی میں بھیجا جائے تاکہ ہر شق پر تفصیلی بحث ہو سکے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ بل میں سینیٹ انتخابات ایک ہی روز میں کروانے کی تجویز بھی شامل ہے۔

