لاہور (بے نقاب ٹی وی)پنجاب پولیس کے اعلیٰ عہدوں کی چمک دمک کے پیچھے چھپی یہ کہانی نہ صرف دلخراش ہے بلکہ اس نظام کے منہ پر ایک طمانچہ بھی ہے جہاں مظلوم کے پاس اب صرف ’’درخواستیں‘‘ اور ’’سوشل میڈیا پوسٹس‘‘ ہی رہ گئی ہیں۔ ڈی ایس پی صاحب کی سالی تہمینہ شوکت نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو ایک اور درخواست بھیج دی — جی ہاں ’’ایک اور‘‘ کیونکہ اس ملک میں حقیقی انصاف کے دروازے کھلنے کے لیے شاید روزانہ کم از کم ایک نئی درخواست چاہیے۔
تہمینہ شوکت کے مطابق ڈی ایس پی صاحب کا اپنی اہلیہ کے ساتھ شدید تنازعہ چل رہا تھا، ستم یہ کہ ڈی ایس پی کی اہلیہ کو بھی اس کے سسرالی قبول نہیں کرتے تھے۔ یعنی ایک طرف ’’میڈیا پر اخلاقیات‘‘ اور دوسری جانب گھر کے اندر ’’شدید مار پیٹ‘‘ ۔درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر اپنی بیوی اور بیٹی پر تشدد کرتا تھا — یہاں تک کہ سالی نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کو مبینہ طور پر بتایا کہ اس کی بہن کو مار دیا گیا اور بیٹی کو کہیں چھپا دیا گیا ہے۔ تہمینہ شوکت کے مطابق وہ انصاف کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹا چکی مگر جواب صرف ’’خاموش رہو‘‘ کی دھمکیوں کی صورت میں ملتا ہے۔
تہمت اتنی ہولناک ہے کہ اگر یہ فلمی سین ہوتا تو شاید کوئی اسے ’’ایکسجریٹڈ‘‘ کہہ دیتا۔ مگر یہ تو حقیقت ہے… اور درخواست ’’سرکاری‘‘ ہے۔مزید انکشاف یہ کہ تھانہ برکی کا ایس ایچ او اور ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر خود درخواست گزار کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ آواز اٹھائی تو ’’جعلی پولیس مقابلے‘‘ میں مار دیا جائے گا۔ اب تہمینہ شوکت نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ ڈی ایس پی کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے، اور اس کی بہن اور بھانجی بازیاب کرائی جائیں۔ یہ کہانی ’’ریاست مدینہ‘‘ کے وہ دعوے یاد دلاتی ہے جہاں پولیس کو ’’عوام کا محافظ‘‘ بتایا جاتا ہے مگر یہاں عوام پھر بھی ’’وزیر اعلیٰ‘‘ سے مدد مانگتی ہے۔


