پرتھ : آسٹریلیا نے ایک نئے توانائی بچت پروگرام کے تحت اعلان کیا ہے کہ ملک بھر کے لاکھوں گھرانوں کو روزانہ کم از کم تین گھنٹے مفت شمسی توانائی فراہم کی جائے گی ۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آسٹریلوی وزیر توانائی کرس بون نےاعلان کیا ہےکہ پروگرام کے تحت ان افراد کو بھی مفت شمسی توانائی فراہم کی جائے گی جن کے گھروں پر سولر پینل نہیں ہیں، یہ پروگرام سال 2026 میں شروع ہوگا۔سولر شیئرر کے نام سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ ابتدائی طور پر نیو ساؤتھ ویلز، ساؤتھ آسٹریلیا اور جنوب مشرقی کوئنزلینڈ میں نافذ کیا جائے گا جس کے بعد اسے دیگر ریاستوں تک وسعت دی جائے گی۔
وزارت توانائی کے مطابق صارفین کو یہ مفت بجلی دوپہر کے اوقات میں فراہم کی جائے گی جب شمسی توانائی کی پیداوار سب سے زیادہ ہوتی ہے۔وزیر توانائی کرس بون نے کہاکہ جو لوگ اپنی بجلی کے استعمال کو ان اوقات میں منتقل کر سکیں گے جب توانائی کی قیمت صفر ہوگی، وہ براہ راست فائدہ اٹھائیں گے ، چاہے اُن کے پاس سولر پینل ہوں یا نہ ہوں اور چاہے وہ مالکِ مکان ہوں یا کرایہ دار۔ جتنا زیادہ لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں گے، اتنا ہی نظامی فائدہ بڑھے گا اور تمام صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔اس اعلان کے بعد آسٹریلیا کی دو بڑی بجلی کمپنیوں اے جی ایل اور اوریجن انرجی کے حصص کی قیمتیں دوپہر تک 3 فیصد گر گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 40 لاکھ گھرانوں پر سولر پینل نصب ہیں۔ دھوپ والے دنوں میں دوپہر کے وقت شمسی توانائی کی پیداوار اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ بجلی کی قیمتیں منفی سطح تک گر جاتی ہیں جبکہ شام کے اوقات میں طلب بڑھنے سے گرڈ پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔نیا پروگرام ان گھرانوں کے لیے بھی دستیاب ہوگا جن کے پاس سولر پینل نہیں ہیں۔
وفاقی حکومت نے 2022 میں ہدف مقرر کیا تھا کہ 2030 تک آسٹریلیا کی 82 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کی جائے، اور 2005 کی سطح کے مقابلے میں 43 فیصد کاربن اخراج میں کمی لائی جائے۔ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے خواہش مند صارفین کے لیے سمارٹ میٹر نصب ہونا لازمی ہوگا اور انہیں زیادہ سے زیادہ فائدہ تب ملے گا جب وہ اپنی بجلی کی کھپت دوپہر کے اوقات میں منتقل کریں گے۔

