Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے نیا "سپر ایجنٹ” متعارف کرا دیا

      ریڈ جائنٹ ستاروں کی ہولناک تباہی سے بچ جانے والے تین انوکھے سیارے دریافت

      روبوٹ کتوں کو سیر کروائیں، ہزاروں کمائیں: مستقبل کی انوکھی نوکری

      اے یو اسمال فائنانس اور وجئے سیلس پر بڑا سائبر حملہ، کروڑوں صارفین کا ڈیٹا خطرے میں

      پاکستان کا ایک اور اعزاز "NUST” کے 45 محققین دنیا کے ممتاز ترین سائنس دانوں کی فہرست میں شامل

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    امریکا میں پھر شٹ ڈاؤن، ، ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورصدارت میں بھی طویل ترین شٹ ڈاؤن ہوا تھا

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    واشنگٹن:امریکی سینیٹ سے اخراجات کا بل پھر مسترد، امریکا میں شٹ ڈاؤن لگ گیا۔
    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ میں عارضی فنڈنگ بل پاس کرانے کے لیے کم از کم 60 ووٹ درکار تھے مگر انہیں صرف 55 ووٹ ہی حاصل ہو سکے۔ اس ناکامی کے بعد امریکی حکومت کے پاس ضروری اخراجات کے لیے کوئی نیا قانونی اختیار باقی نہیں رہا، جس کے نتیجے میں لاکھوں ملازمین اور درجنوں سرکاری محکمے متاثر ہو سکتے ہیں۔
    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی 400 سے زائد وفاقی ایجنسیاں نامعلوم مدت تک بند رہیں گی،وائٹ ہاؤس نے ڈیموکریٹک پارٹی کو شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار قرار دیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں بھی طویل ترین شٹ ڈاؤن
    یاد رہے کہ 2018 میں صدر ٹرمپ کے دور حکومت میں طویل ترین 35 دن شٹ ڈاؤن رہا تھا،واضح رہے کہ امریکا میں نیا مالی سال یکم اکتوبر سے شروع ہوتا ہے اور اس بار یہ بغیر بجٹ منظوری کے شروع ہونے کا خدشہ ہے۔

    ریپلکن پارٹی کے مطالبات 
    ریپبلکن پارٹی نے حکومت کو 21 نومبر تک کھلا رکھنے کے لیے ایک قلیل مدتی بل پیش کیا تھا لیکن ڈیموکریٹس نے اس پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ یہ ناکافی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ٹرمپ کے مجوزہ میگا بجٹ سے میڈیکیڈ میں کی جانے والی کٹوتی واپس لی جائے اور افورڈ ایبل کیئر ایکٹ کے اہم ٹیکس کریڈٹ کو بڑھایا جائے۔ دوسری جانب ریپبلکن پارٹی نے ان شرائط کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں جماعتوں کے درمیان شدید تعطل پیدا ہو گیا ہے۔

    شٹ ڈاؤن ہوتا کیا ہے؟

    امریکہ میں 30 ستمبر کو مالی سال کا اختتام ہوتا ہے۔ اس سے قبل کانگریس کو حکومت کے 438 اداروں کے لیے اخراجات مختص کرنا ہوتے ہیں۔

    اگر قانون ساز نئے مالی سال کے آغاز سے قبل اخراجات کی منظوری نہیں دیتے تو یہ حکومتی ادارے معمول کے مطابق کام جاری نہیں رکھ پاتے اور کئی اداروں کے ملازمین بھی معطل ہوجاتے ہیں۔ اس صورت حال کو حکومت کی بندش یا  شٹ ڈاؤن کہا جاتا ہے۔

    کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق 1981 سے لے کر اب تک 14 بار گورنمٹ شٹ ڈاؤن ہو چکا ہے جن میں سے کئی بار محض ایک یا دو روز کے لیے ہوئے۔ حالیہ برسوں میں طویل ترین شٹ ڈاؤن بارڈر سیکیورٹی سے متعلق ہونے والے تنازع کی وجہ سے ہوا تھا۔ دسمبر 2018 میں شروع ہونے و الا یہ شٹ ڈاؤن 34 دن تک جاری رہنے کے بعد جنوری 2019 میں ختم ہوا تھا۔

    کئی مرتبہ اخراجات کی منظوری پر جاری مذاکرات کے دوران سرکاری اداروں کی فنڈنگ کی مدت میں توسیع کر دیتی ہے تاکہ حتمی منظوری تک ادارے اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

    شٹ ڈاؤن  کے اثرات

    شٹ ڈاؤن کی صورت میں لاکھوں وفاقی ملازمین بغیر تنخواہ ملازمت سے معطل ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد سرکاری کام رک جاتے ہیں۔ شٹ ڈاؤن کے باعث مالیاتی امور سے لے کر نیشنل پارکس میں کوڑا اٹھانے تک سرکاری خدمات متاثر ہوتی ہیں۔

    ناگزیر کاموں سے منسلک اہل کاروں کو معطل نہیں کیا جاتا لیکن شٹ ڈاؤن ختم ہونے تک انہیں ادائیگیاں نہیں کی جاتیں۔ ٹیکس جمع کرنے اور ڈاک کے محکمے جیسے ادارے اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔

    جو شٹ ڈاؤن محض چند دنوں تک جاری رہیں ان کے اثرات عملاً بہت کم ہوتے ہیں۔ خاص طور پر اختتامِ ہفتہ پر ہونے والے شٹ ڈاؤن روز مرہ معمولات پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوتے۔ لیکن اگر دو ہفتے بعد بھی وفاقی ملازمین کو ادائیگیاں نہ ہوں تو اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر معیشت پر اثر پڑتا ہے۔

    مالیاتی خدمات اور سرمایہ کاری کے امریکی ادارے گولڈ ساکس کے مطابق شٹ ڈاؤن کے دوران ملک کی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) براہ راست ہر ہفتے 0.15 فی صد کم ہوتی ہے۔ تاہم شٹ ڈاؤن ختم ہوتے ہی جی ڈی پی میں ہفتہ وار اسی شرح سے اضافہ بھی ہو جاتا ہے۔

    کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق 19-2018 میں ہونے والے شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں امریکی معیشت کو تین ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔

    ہر وفاقی ادارہ اور محکمہ شٹ ڈاؤن کی صورت میں پیشگی منصوبہ بندی کرتا ہے جس میں اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ ملازمین کو ادائیگیوں کے بغیر بھی کام جاری رکھنا ہو گا۔

    کتنے وفاقی ملازمین متاثر ہوں گے؟

    مالی سال 19-2018 کے دوران وفاقی حکومت کے 22 لاکھ ملازمین میں سے آٹھ لاکھ کو شٹ ڈاؤن کی وجہ سے عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے بجٹ آفس نے تاحال اس سال ممکنہ طور پر متاثر ہونے والوں کی تعداد بیان نہیں کی ہے۔
    یہ بھی واضح نہیں کہ امریکا کی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام 63 نیشنل پارک کھلے رہیں گے یا نہیں۔ 2013 میں اوباما حکومت کے دوران ہونے والے شٹ ڈاؤن کے باعث سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے پارکس بند ہو گئے تھے جس کے باعث انہیں 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

    فوجیوں کو تنخواہ ملتی رہے گی، پینٹاگان کے ہزاروں سویلین اہلکار معطل

    صدر ٹرمپ کے دور میں 19-2018 کے شٹ ڈاؤن میں نیشنل پارکس کھلے رکھے گئے تھے تاہم ان میں بیت الخلا، انفارمیشن ڈیسک اور کچرا ٹھکانے لگانے کے کام کو بند رکھا گیا تھا۔ اس دوران نیویارک اور یوٹا کی ریاستوں نے نیشنل پارکس میں تمام خدمات کو جاری رکھنے کا انتظام کیا تھا۔
    فوج کے تمام اہل کار کام جاری رکھیں گے تاہم پینٹاگان میں کام کرنے والے چار لاکھ 29 ہزار سویلین اہل کار شٹ ڈاؤں کی صورت میں معطل ہو جائیں گے۔

    Related Posts

    بگ بی اور ان کے پرستاروں میں بلٹ پروف شیشے کی دیوار حائل،1982 سے جاری روایت کیا قائم رہ سکے گی?

    بغیر انجن کے ٹرین کے سات ڈبے 6 کلومیٹر تک پٹری پر دوڑ گئے؛ ڈی ریل ہونے کے باعث بنگلورو۔چنئی ریل سروس معطل

    امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، حماس کے چار کمانڈر شہید

    مقبول خبریں

    بگ بی اور ان کے پرستاروں میں بلٹ پروف شیشے کی دیوار حائل،1982 سے جاری روایت کیا قائم رہ سکے گی?

    خیبر پختونخوا پولیس میں اہم تبادلے

    پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں کمی

    فیلڈ مارشل سے چینی وزیر کی ملاقات، سٹریٹجک شراکت داری مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ

    فیلڈمارشل سے کھلی شکایت: "ترجمانوں کو زبان سکھائی جاتی ہے، معاملہ آرمی چیف کے سامنے اٹھاؤں گا”مولانا فضل الرحمان

    بلاگ

    مذہبی اصولوں کے دعوے سے سیاسی مفاہمت تک

    مسٹر پتلو کی شادی یا عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کا تماشا؟

    ’’گزرے کل سے آگے ماضی کے افسوس سے نکل کر حال کو جینے اور مستقبل کے خوف سے آزاد ہونے کا نام زندگی’’

    درگاہ حضرت سچل سرمستؒ

     فصلی بٹیروں سے بچیے!

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.