Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      گاڑی مالکان متوجہ ہوں! ہنڈا اٹلس کا ہزاروں گاڑیاں واپس بلانے کا اعلان،

      الیکٹرک گاڑیوں کے لیے موٹروے ٹول ٹیکس معاف! ٹیکس چھوٹ سمیت بڑے ‘سرپرائزز’

      ہرشہری کوگاڑی کا مالک بنانے کافیصلہ ، نئی آٹو پالیسی منظور

      طلبہ کی بڑی پریشانی حل، ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے گھر بیٹھے ڈگریاں تصدیق کرانے کا طریق کار

      ”مہنگی بجلی بائے بائے“: ٹریٹ بیٹری لمیٹڈ نے ’لیتھیم نیو پاور‘ سیریز لانچ کر دی

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    امریکا میں پھر شٹ ڈاؤن، ، ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورصدارت میں بھی طویل ترین شٹ ڈاؤن ہوا تھا

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    واشنگٹن:امریکی سینیٹ سے اخراجات کا بل پھر مسترد، امریکا میں شٹ ڈاؤن لگ گیا۔
    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ میں عارضی فنڈنگ بل پاس کرانے کے لیے کم از کم 60 ووٹ درکار تھے مگر انہیں صرف 55 ووٹ ہی حاصل ہو سکے۔ اس ناکامی کے بعد امریکی حکومت کے پاس ضروری اخراجات کے لیے کوئی نیا قانونی اختیار باقی نہیں رہا، جس کے نتیجے میں لاکھوں ملازمین اور درجنوں سرکاری محکمے متاثر ہو سکتے ہیں۔
    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی 400 سے زائد وفاقی ایجنسیاں نامعلوم مدت تک بند رہیں گی،وائٹ ہاؤس نے ڈیموکریٹک پارٹی کو شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار قرار دیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں بھی طویل ترین شٹ ڈاؤن
    یاد رہے کہ 2018 میں صدر ٹرمپ کے دور حکومت میں طویل ترین 35 دن شٹ ڈاؤن رہا تھا،واضح رہے کہ امریکا میں نیا مالی سال یکم اکتوبر سے شروع ہوتا ہے اور اس بار یہ بغیر بجٹ منظوری کے شروع ہونے کا خدشہ ہے۔

    ریپلکن پارٹی کے مطالبات 
    ریپبلکن پارٹی نے حکومت کو 21 نومبر تک کھلا رکھنے کے لیے ایک قلیل مدتی بل پیش کیا تھا لیکن ڈیموکریٹس نے اس پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ یہ ناکافی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ٹرمپ کے مجوزہ میگا بجٹ سے میڈیکیڈ میں کی جانے والی کٹوتی واپس لی جائے اور افورڈ ایبل کیئر ایکٹ کے اہم ٹیکس کریڈٹ کو بڑھایا جائے۔ دوسری جانب ریپبلکن پارٹی نے ان شرائط کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں جماعتوں کے درمیان شدید تعطل پیدا ہو گیا ہے۔

    شٹ ڈاؤن ہوتا کیا ہے؟

    امریکہ میں 30 ستمبر کو مالی سال کا اختتام ہوتا ہے۔ اس سے قبل کانگریس کو حکومت کے 438 اداروں کے لیے اخراجات مختص کرنا ہوتے ہیں۔

    اگر قانون ساز نئے مالی سال کے آغاز سے قبل اخراجات کی منظوری نہیں دیتے تو یہ حکومتی ادارے معمول کے مطابق کام جاری نہیں رکھ پاتے اور کئی اداروں کے ملازمین بھی معطل ہوجاتے ہیں۔ اس صورت حال کو حکومت کی بندش یا  شٹ ڈاؤن کہا جاتا ہے۔

    کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق 1981 سے لے کر اب تک 14 بار گورنمٹ شٹ ڈاؤن ہو چکا ہے جن میں سے کئی بار محض ایک یا دو روز کے لیے ہوئے۔ حالیہ برسوں میں طویل ترین شٹ ڈاؤن بارڈر سیکیورٹی سے متعلق ہونے والے تنازع کی وجہ سے ہوا تھا۔ دسمبر 2018 میں شروع ہونے و الا یہ شٹ ڈاؤن 34 دن تک جاری رہنے کے بعد جنوری 2019 میں ختم ہوا تھا۔

    کئی مرتبہ اخراجات کی منظوری پر جاری مذاکرات کے دوران سرکاری اداروں کی فنڈنگ کی مدت میں توسیع کر دیتی ہے تاکہ حتمی منظوری تک ادارے اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

    شٹ ڈاؤن  کے اثرات

    شٹ ڈاؤن کی صورت میں لاکھوں وفاقی ملازمین بغیر تنخواہ ملازمت سے معطل ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد سرکاری کام رک جاتے ہیں۔ شٹ ڈاؤن کے باعث مالیاتی امور سے لے کر نیشنل پارکس میں کوڑا اٹھانے تک سرکاری خدمات متاثر ہوتی ہیں۔

    ناگزیر کاموں سے منسلک اہل کاروں کو معطل نہیں کیا جاتا لیکن شٹ ڈاؤن ختم ہونے تک انہیں ادائیگیاں نہیں کی جاتیں۔ ٹیکس جمع کرنے اور ڈاک کے محکمے جیسے ادارے اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔

    جو شٹ ڈاؤن محض چند دنوں تک جاری رہیں ان کے اثرات عملاً بہت کم ہوتے ہیں۔ خاص طور پر اختتامِ ہفتہ پر ہونے والے شٹ ڈاؤن روز مرہ معمولات پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوتے۔ لیکن اگر دو ہفتے بعد بھی وفاقی ملازمین کو ادائیگیاں نہ ہوں تو اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر معیشت پر اثر پڑتا ہے۔

    مالیاتی خدمات اور سرمایہ کاری کے امریکی ادارے گولڈ ساکس کے مطابق شٹ ڈاؤن کے دوران ملک کی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) براہ راست ہر ہفتے 0.15 فی صد کم ہوتی ہے۔ تاہم شٹ ڈاؤن ختم ہوتے ہی جی ڈی پی میں ہفتہ وار اسی شرح سے اضافہ بھی ہو جاتا ہے۔

    کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق 19-2018 میں ہونے والے شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں امریکی معیشت کو تین ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔

    ہر وفاقی ادارہ اور محکمہ شٹ ڈاؤن کی صورت میں پیشگی منصوبہ بندی کرتا ہے جس میں اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ ملازمین کو ادائیگیوں کے بغیر بھی کام جاری رکھنا ہو گا۔

    کتنے وفاقی ملازمین متاثر ہوں گے؟

    مالی سال 19-2018 کے دوران وفاقی حکومت کے 22 لاکھ ملازمین میں سے آٹھ لاکھ کو شٹ ڈاؤن کی وجہ سے عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے بجٹ آفس نے تاحال اس سال ممکنہ طور پر متاثر ہونے والوں کی تعداد بیان نہیں کی ہے۔
    یہ بھی واضح نہیں کہ امریکا کی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام 63 نیشنل پارک کھلے رہیں گے یا نہیں۔ 2013 میں اوباما حکومت کے دوران ہونے والے شٹ ڈاؤن کے باعث سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے پارکس بند ہو گئے تھے جس کے باعث انہیں 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

    فوجیوں کو تنخواہ ملتی رہے گی، پینٹاگان کے ہزاروں سویلین اہلکار معطل

    صدر ٹرمپ کے دور میں 19-2018 کے شٹ ڈاؤن میں نیشنل پارکس کھلے رکھے گئے تھے تاہم ان میں بیت الخلا، انفارمیشن ڈیسک اور کچرا ٹھکانے لگانے کے کام کو بند رکھا گیا تھا۔ اس دوران نیویارک اور یوٹا کی ریاستوں نے نیشنل پارکس میں تمام خدمات کو جاری رکھنے کا انتظام کیا تھا۔
    فوج کے تمام اہل کار کام جاری رکھیں گے تاہم پینٹاگان میں کام کرنے والے چار لاکھ 29 ہزار سویلین اہل کار شٹ ڈاؤں کی صورت میں معطل ہو جائیں گے۔

    Related Posts

    عمان کے ساحل پر ہندوستانی پرچم والے تجارتی جہاز پر بڑا حملہ، بھارت کا اظہار تشویش

    پیسوں کی جھنکار میں انصاف کی تلاش: سوناکشی سنہا کی کورٹ روم تھرلر ’سسٹم‘ کا ٹریلر ریلیز

    ہمیں شراکت دار ہونا چاہئیے ،حریف نہیں ، بیجنگ میں ٹرمپ ژی ملاقات

    مقبول خبریں

    انڈیا میں رضا پہلوی کی حامی ایرانی اداکارہ مندانا کریمی کو ملک کیوں چھوڑنا پڑا؟

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی لائیو ڈیش بورڈ کی بدولت ستھرا پنجاب میں بدعنوانی بے نقاب ہوئی:عظمیٰ بخاری

    ٹھٹھہ کے علاقے جھرک میٹنگ ریلوے اسٹیشن کے قریب کوئلے کی کان میں مٹی کا تودہ گرنے سے 4 مزدور جاں بحق جبکہ 5 زخمی

    اب منشیات فروش پنکی کو تمغہ ملنے کا انتظار ہے ، فیصل واوڈا

    ’فتح 4‘ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ،قوم کو مبارکباد، انجنئیرز ،سائنسدانوں کو خراج تحسین

    بلاگ

    مکالمے کا فقدان

    خواتین کی شکایات پر فوری ایکشن، ڈی آئی جی آپریشنز کے بڑے فیصلے، پولیس افسران کیلئے سخت احکامات جاری

    سندھ، مہاجر اور مشترکہ تاریخ: محبت، قربانی اور سیاست کے درمیان ایک سفربرصغیر کی تقسیم

    انمول عرف پنکی کو درپردہ کس کی حمایت حاصل؟ کیس منطقی انجام تک پہنچے گا یا ایک اور فائل بند ہوگی!

    چھٹیوں کے سائے میں دم توڑتی تعلیم

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.