اسلام آباد : ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے وفاقی وزیرعطااللہ تارڑ اور چئیرمین این ڈی ایم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف کی ہدایت پر سیلاب متاثرہ علاقوں میں فوج کے افسران اور جوان امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
لیفٹنٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ فوج مشکل حالات میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ اب تک فوج 28 ہزار لوگوں کو ریسکیو کر چکی ہے۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے دوران پاک فوج کے دو جوان شہید جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا اور گلگت میں سیلاب سے متاثر ہونے والے تین بڑے پلوں کو بحال کردیا گیا جبکہ آزاد کشمیر میں بھی بحالی کے لیے فوج کی بٹالینز مصروف عمل ہیںنہوں نے کہا کہ پاک فوج کا ان حالات میں بھی خارجیوں کے خلاف آپریشن جاری ہے تاکہ وہ کسی صورت حال کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ملک کے تین دریاؤں میں اس وقت سیلابی صورتحال ہے۔ انھوں نے کہا کہ قادر آباد کی طرف پانی کا بہاؤ بڑھے گا جب کہ دریائے ستلج میں گندھارا سے ہیڈ خانکی کی طرف پانی کا بہاؤ بڑھ گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ متاثرین کے لیے خیمے اور دیگر اشیائے ضروریہ فراہم کی جا رہی ہیں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ آئندہ دو روز میں ممکنہ صورتحال کے پیش نظر پوری طرح تیار ہیں، لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، نارووال میں مزید بارشیں متوقع ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دریائے ستلج کے اطراف سے دو لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، ہیڈ خانکی میں 10 لاکھ کیوسک ریلہ موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ خانکی اور قادر آباد کے درمیان مزید طغیانی آئے گی۔
انھوں نے کہا کہ پنجاب کے شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق جموں میں فلش فلڈ اور بادل پھٹنے سے نقصان ہوا ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں سے دریاؤں میں طغیانی آئی۔ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، چیف سیکریٹریز ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیٹفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کا کہنا ہے کہ ملٹری فارمیشنز کو آرمی چیف کی طرف سے ہدایات دی جا چکی ہیں۔

