سانگھڑ (بیورو رپورٹ)
سانگھڑ میں اوورسیز پاکستانیز فنڈ کے تحت کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا جدید ماڈل اسکول حکومتی عدم توجہی کے باعث 9 سال گزرنے کے باوجود تاحال فعال نہ ہو سکا، جس کے باعث قیمتی قومی سرمائے سے بننے والی عمارت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہےتفصیلات کے مطابق سانگھڑ شوگر ملز کے قریب تعمیر کیے جانے والے اس جدید ماڈل اسکول پر تقریباً 9 کروڑ روپے لاگت آئی تھی۔ منصوبے کے تحت سال 2017ء میں اسکول کو فعال ہونا تھا اور یہاں تعلیمی سرگرمیاں شروع کی جانی تھیں، تاہم طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود متعلقہ حکام کی مجرمانہ غفلت کے باعث یہاں تعلیمی چراغ روشن نہ ہو سکےمناسب دیکھ بھال اور طویل عرصے تک خالی رہنے کی وجہ سے اسکول کی شاندار عمارت اب خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہے اور اس کے دروازے، کھڑکیاں اور دیگر ڈھانچہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ عوامی حلقوں میں اس بات پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ کس طرح قومی وسائل کو اس بے دردی سے ضائع کیا جا رہا ہے۔ مکینوں، سماجی حلقوں اور شہریوں نے اعلیٰ حکام، وزیراعلیٰ سندھ اور سیکرٹری تعلیم سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس تعلیمی منصوبے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ اسکول کی عمارت کی مرمت، تزئین و آرائش اور ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا کر اسے جلد از جلد فعال کیا جائے تاکہ غریب علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

