تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پنجاب پولیس کی دنیا بھی عجیب رنگوں سے بھری پڑی ہے۔ کہیں پولیس کی بروقت مداخلت کسی اجڑتی زندگی کو نئی امید دے دیتی ہے، کہیں اعلیٰ افسران کے مہمانوں کی خاطر تواضع میں جھپیاں اور پپیاں نہ ملنے پر ناراضگی پیدا ہو جاتی ہے اور کہیں اہم عہدوں پر تعیناتی کے لیے پولیس افسران کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔ قصور پولیس کا ایک ایسا ہی غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے جس میں پولیس نے ایک نوجوان لڑکی کو خودکشی کے ممکنہ اقدام سے بچانے کے بعد دونوں خاندانوں کے درمیان مفاہمت کی راہ ہموار کر دی۔ قصور کے علاقے کھڈیاں میں ایک نوجوان لڑکے اور کمسن لڑکی کی قابل اعتراض ویڈیو لیک ہونے کے بعد معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا۔ ویڈیو منظرعام پر آنے سے دونوں خاندان شدید ذہنی دباؤ اور سماجی مشکلات کا شکار ہوئے جبکہ لڑکی نے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کا ارادہ کر لیا۔ حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے ڈی پی او قصور آفتاب پھلروان نے فوری نوٹس لیا اور پولیس کو دونوں خاندانوں تک پہنچ کر معاملے کو ذمہ داری سے حل کرنے کی ہدایت کی۔ پولیس نے محض مقدمے کے اندراج اور قانونی کارروائی تک خود کو محدود رکھنے کے بجائے دونوں خاندانوں کی کونسلنگ کی، انہیں معاملے کی سنگینی اور ممکنہ نتائج سے آگاہ کیا اور مفاہمت کی کوششیں شروع کر دیں۔ بالآخر دونوں خاندان لڑکے اور لڑکی کی شادی پر آمادہ ہو گئے اور یوں معاملہ شادی کے بندھن تک جا پہنچا۔ لڑکے والے بینڈ باجے کے ساتھ لڑکی کے گھر پہنچے اور شادی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں پولیس اہلکاروں نے بھی شرکت کی۔ لڑکی کے والدین کی جانب سے لڑکے کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے لیے دی گئی درخواست بھی پس منظر میں چلی گئی۔ اس پورے معاملے میں ڈی پی او قصور آفتاب پھلروان نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے اہم کردار ادا کیا اور ایک ممکنہ سانحے کو روکنے کے لیے پولیس کی مداخلت کو محض قانونی کارروائی کے بجائے انسانی ہمدردی اور کونسلنگ کا ذریعہ بنایا۔ یہ واقعہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے عوام دوست پولیسنگ کے وژن کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔
پنجاب پولیس میں سفارش اور پروٹوکول کلچر کی کہانیاں بھی کم دلچسپ نہیں۔ ایک ایسا ہی واقعہ سننے کو ملا جس میں عالمی شہرت یافتہ کرکٹر اپنے ایک دوست کے ہمراہ ایک اعلیٰ پولیس افسر کی سفارش پر ایک ضلع کے ڈی پی او سے ملاقات کے لیے پہنچ گیا۔ ڈی پی او اس وقت ایک اہم میٹنگ میں مصروف تھا، لیکن معروف کرکٹر کی آمد کا سنتے ہی میٹنگ چھوڑ کر مہمانوں کا استقبال کیا، دفتر میں بٹھایا، کافی کا دور چلا اور خوب گپ شپ ہوئی۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی اور دونوں مہمان رخصت ہو گئے۔ اصل کہانی مہمانوں کے جانے کے بعد شروع ہوئی۔ اعلیٰ پولیس افسر نے ڈی پی او سے رابطہ کیا اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ آپ نے میرے مہمانوں کے ساتھ اچھا رویہ اختیار نہیں کیا۔ ڈی پی او یہ سن کر حیران و پریشان رہ گیا کہ آخر ایسی کیا کوتاہی ہو گئی؟ اس نے چند لمحوں کی مہلت مانگی اور فوری طور پر مہمانوں سے رابطہ کرکے پوچھ لیا کہ ان کی شان میں آخر کیا گستاخی ہو گئی ہے؟ جواب سن کر ڈی پی او بھی حیران رہ گیا۔ مہمانوں کا کہنا تھا کہ آپ نے ہماری آمد پر میٹنگ تو چھوڑ دی، کافی بھی پلائی اور گفتگو بھی کی، لیکن نہ ہمیں باہر آکر ریسیو کیا، نہ گاڑی تک الوداع کرنے آئے اور نہ وہ گرم جوشی دکھائی جس کی ہمیں توقع تھی۔ نہ جھپیاں ڈالیں اور نہ پپیاں لیں ڈی پی او نے جب یہ سارا ماجرا اعلیٰ افسر کو بتایا تو دونوں جانب سے ایسے قہقہے بلند ہوئے کہ ناراضگی بھی ختم ہو گئی اور معاملہ خوشگوار اختتام کو پہنچ گیا۔ یوں معلوم ہوا کہ بعض اوقات سرکاری دفتروں میں مہمان نوازی کے بھی اپنے الگ معیار ہوتے ہیں، جہاں کافی اور گپ شپ کافی نہیں ہوتیں بلکہ جھپیاں اور پپیاں بھی پروٹوکول کا لازمی حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ دوسری جانب پنجاب سیف سٹی اتھارٹی میں بھی ایک اہم عہدے پر تعیناتی کے لیے سرگرمیاں جاری ہیں۔ پنجاب پولیس کے ماتھے کا جھومر اور پنجاب سیف سٹی میں تعینات چیف آپریٹنگ آفیسر مون مستنصر فیروز کی اسلام آباد تعیناتی کے بعد یہ اہم عہدہ خالی ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس عہدے پر تعیناتی کے خواہش مند چھ پولیس افسران نے اپلائی کیا جن میں ڈی آئی جی اسد سرفراز خان، ایس ایس پی صہیب اشرف اور احسن سیف اللہ پر مشتمل افسران کا پینل فائنل ہو گیا ہے ۔ پنجاب سیف سٹی کے قواعد و ضوابط کے مطابق اعلیٰ سطحی بورڈ امیدواروں کے انٹرویوز کرے گا اور اس عمل کے بعد نئے چیف آپریٹنگ آفیسر کی تعیناتی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ عہدہ جدید ٹیکنالوجی، نگرانی کے نظام، جرائم کی روک تھام اور ڈیجیٹل پولیسنگ کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پینل میں شامل امیدواروں میں سے کس افسر کے نام قرعہ فال نکلتا ہے اور کون پنجاب سیف سٹی جیسے اہم ادارے کی آپریشنل کمان سنبھالتا ہے۔ مجموعی طور پر پنجاب پولیس کے یہ تینوں منظرنامے ادارے کے مختلف رنگ دکھاتے ہیں؛ کہیں انسانی زندگی بچانے کی کوشش، کہیں پروٹوکول کی دلچسپ روایات اور کہیں اہم عہدے کے حصول کے لیے انتظامی مقابلہ۔
’’پولیس کی دنیا کے تین دلچسپ منظرنامے، انسانی ہمدردی، جھپیاں پپیاں اور اہم عہدے کی جنگ’’



