برلن،بیلجئیم، پیرس، لندن :یورپ کی فضائی حدود میں اس وقت شدید سکیورٹی بحران پیدا ہوگیا جب متعدد مسافر بردار تجارتی طیاروں کو بم سے اڑانے کی پے در پے دھمکیاں موصول ہونے کے بعد یورپی فضائی سفر میں شدید خلل پڑا، جس کے نتیجے میں یورپ کے متعدد ہوائی اڈوں پر ہنگامی بنیادوں پر ریڈ الرٹ نافذ کر دیا گیا اور کئی پروازوں کو فوری طور پر متبادل ہوائی اڈوں کی طرف موڑدیا گیا، بم کی دھمکیوں کے باعث آئرلینڈ، اٹلی، فرانس، بلغاریہ، بیلجیئم، فن لینڈ اور پولینڈ جیسے اہم یورپی ممالک کی ایئرلائنز اور فضائی حدود شدید متاثر ہوئی۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز اور دیگر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئرلینڈ کی قومی ایئرلائن ایئرلنگس کی پرواز EI402 ڈبلن سے اٹلی کے دارالحکومت روم کی طرف گامزن تھی، طیارے کے دورانِ پرواز بم کی دھمکی موصول ہونے پر آئرش ایئر بس A320 طیارے کو فوری طور پر فرانس کی فضائی حدود سے موڑ دیا گیا، فرانسیسی حکومت کی ہدایت پر اس طیارے کو پیرس کے مغرب میں واقع اہم عسکری فضائی اڈے پر ہنگامی طور پر اتارا گیا، طیارے میں 151 مسافر اور عملے کے 6 ارکان سوار تھے، لینڈنگ کے فوراً بعد فرانسیسی کمانڈوز اور بم ڈسپوزل ماہرین نے مسافروں کو محفوظ طریقے سے نیچے اتارا اور جہاز کی مکمل اور باریک بینی سے تلاشی لی۔
بتایا گیا ہے کہ بلغاریہ میں بھی سکیورٹی الرٹ کے باعث فضائی ٹریفک شدید متاثر ہوئی، کوپن ہیگن اور میڈرڈ سے آنے والی دو مختلف پروازوں کو دارالحکومت صوفیہ کے ہوائی اڈے کی طرف موڑ دیا گیا، جب کہ لندن سے آنے والی پرواز کا رخ تبدیل کر کے اسے پلوودیو ایئرپورٹ پر اتارا گیا، پولینڈ کی فضائی کمپنی ایل او ٹی کی لندن سے وارسا آنے والی پرواز کو سکیورٹی خدشات کے باعث موڈلن ایئرپورٹ منتقل کیا گیا، اس کے علاوہ میلان سے وارسا جانے والی وِز ایئر کی پرواز اور ایس اے ایس کی پروازیں بھی شدید سکیورٹی الرٹس کے باعث ایمرجنسی چیکنگ کے عمل سے گزریں۔
معلوم ہوا ہے کہ سکیورٹی کی اس غیر معمولی اور تشویشناک صورتحال کے پیشِ نظر یورپی ممالک کی فضائیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا، بعض مسافر طیاروں کی محفوظ نگرانی اور ان کی منزل تک رسائی یقینی بنانے کے لیے نیٹو اور متعلقہ ممالک کے جنگی لڑاکا طیاروں نے فضا میں اسکواٹنگ کے فرائض انجام دیئے، اطالوی فضائیہ نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ہیلسنکی فن لینڈ سے روم آنے والی فن ایئر کی پرواز کے تحفظ کے لیے یورو فائٹر جنگی طیارے روانہ کیے جنہوں نے فضا میں مسافر طیارے کو اپنے سکیورٹی حصار میں لیا اور محفوظ طریقے سے روم کے فیومیچینو ایئرپورٹ پر لینڈ کروایا۔
بتایا جارہا ہے کہ متاثرہ پروازوں کی آمد کے فوراً بعد متعلقہ ممالک کے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی فورسز، انسدادِ دہشتگردی اسکواڈ اور بم ڈسپوزل ٹیموں نے تلاشی کا طویل اور جامع عمل مکمل کیا، ابھی تک کی جانچ پڑتال کے مطابق کسی بھی طیارے سے کوئی دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا، جس سے ابتدائی طور پر ان دھمکیوں کے ہیکس یا منظم سائبر و سائیکولوجیکل حملے ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم اتنے بڑے پیمانے پر یورپی فضائی سروسز کو مفلوج کرنے کی اس سازش کے تانے بانے تلاش کرنے کیلئے یورپی ایوی ایشن سکیورٹی ایجنسیز اور انٹیلی جنس اداروں نے مشترکہ تحقیقات کا آغاز کردیا۔

