تل ابیب :امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کے بعد اسرائیل کی اندرونی سیاست میں شدید ہلچل مچ گئی ہے، جہاں وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے سیاسی مخالفین نے ان کے استعفے اور حکومت سے علیحدگی کے لیے دباؤ میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے امریکی انتخابی نتائج کو نیتن یاہو کی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ نیتن یاہو نے امریکا میں اسرائیل کی دہائیوں سے قائم دو جماعتی (Bipartisan) حمایت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اپوزیشن لیڈر یائر لاپید نے سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل مزید نیتن یاہو کی وزارتِ عظمیٰ کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کی پالیسیاں ملکی سلامتی، جمہوریت اور عالمی برادری میں اسرائیل کی ساکھ کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
دوسری جانب، اپوزیشن کے اہم رہنما گادی آئزن کوٹ نے واضح کیا کہ ان کی ممکنہ قیادت میں اسرائیل امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کی ازسرنو بحالی اور دو جماعتی بنیادوں پر تعاون کو دوبارہ مضبوط بنائے گا۔ واضح رہے کہ اسرائیل میں حال ہی میں ہونے والے انتخابات کے دوران بھی نیتن یاہو کا حکومتی اتحاد پارلیمانی اکثریت کھو بیٹھا تھا، جس کے بعد امریکی انتخابات کے نتائج نے ان کی سیاسی بقا کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
مڈٹرم الیکشن کے نتائج کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر استعفا کیلئے دباؤ

