سرینگر:
مقبوضہ جموں و کشمیر کی حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس (NC) میں کابینہ کی توسیع اور ردوبدل کے بعد پیدا ہونے والے شدید اندرونی اختلافات کو دور کرنے کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ کابینہ میں شمولیت سے محروم اور ناراض اراکینِ اسمبلی کی بغاوت کے بعد پارٹی قیادت کو سیاسی بحران کا سامنا ہے، جسے سلجھانے کے لیے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ اور پارٹی ہائی کمان متحرک ہو چکی ہے۔واضح رہے کہ حال ہی میں مقبوضہ جموں و کشمیر حکومت کی کابینہ میں توسیع کی گئی تھی جس کے تحت چار نئے وزراء کو شامل کیا گیا تھا۔ تاہم، اس ردوبدل اور قلمدانوں کی تقسیم کے بعد پارٹی کے کئی پرانے اور سینئر اراکینِ اسمبلی نے قیادت کے فیصلوں پر کلاسیفائیڈ اور بند کمرہ اجلاسوں میں شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ ناراض اراکین کا مؤقف ہے کہ کابینہ کی تشکیل میں اہلیت اور سینئرٹی کے بجائے ذاتی پسند و ناپسند کو ترجیح دی گئی ہے، جس سے پارٹی کی نچلی سطح پر بھی غلط پیغام گیا ہے۔گزشتہ چند دنوں کے دوران پارٹی کے ایک درجن سے زائد ناراض ارکانِ اسمبلی کی جانب سے متعدد اہم اور خفیہ میٹنگیں منعقد کی جا چکی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ناراض اراکین پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں جس سے قبل وہ اپنی آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے سرینگر میں سرجوڑ کر بیٹھے ہیں۔ اس اندرونی کشمکش کے باعث حکمراں جماعت کے اتحاد پر بھی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔بڑھتے ہوئے سیاسی بحران اور اراکین کی بغاوت کو روکنے کے لیے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اور پارٹی قیادت نے ناراض رہنماؤں کو انفرادی طور پر منانے اور ان کے تحفظات کو دور کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، عمر عبداللہ حکومت کے لیے یہ پہلا بڑا سیاسی امتحان ہے، اور اگر بروقت ناراض ارکان کے مطالبات کو سن کر معاملات کو خوش اسلوبی سے نہ سلجھایا گیا تو حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

