تہران:
ایران کے دارالحکومت تہران میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے۔ تہران کے انتہائی مصروف ترین انقلاب اسکوائر پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر پر مبنی ایک بڑا بل بورڈ آویزاں کیا گیا ہے، جس میں براہِ راست دھمکی آمیز پیغامات درج ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس اشتہاری بورڈ پر امریکی صدر کو سلاخوں کے پیچھے سر جھکائے ہوئے دکھایا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی سخت الفاظ میں دھمکی آمیز جملے تحریر ہیں۔ اس نئے اقدام کے بعد دارالحکومت میں سرکاری سطح پر جاری سخت بیانات اور مخالفانہ مہم ایک انتہائی اور نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آغاز میں مشرق وسطیٰ میں ہونے والی فوجی کشیدگی اور حملوں کے بعد سے تہران کے مختلف علاقوں میں وقتاً فوقتاً ایسے اشتہاری بورڈز اور نمائشیں سامنے آتی رہی ہیں جن میں امریکی قیادت سے بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر کی جانب سے ایران کو دی جانے والی دھمکیوں اور جوابی بیانات کے بعد تہران کی جانب سے یہ علامتی اور سخت قدم اٹھایا گیا ہے۔
عالمی سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری لفظی جنگ اور کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

