ملتان (رپورٹ: ملک جابر عباس)
ملتان کے علاقے تھانہ ڈی ایچ اے کی حدود میں پیش آنے والے آتشزدگی کے ایک دلخراش واقعے کی تہہ کھل گئی ہے۔ ابتدائی طور پر جسے حادثہ سمجھا جا رہا تھا، وہ دراصل ایک سفاکانہ قتل نکلا جس کا ماسٹر مائنڈ مقتولین کا اپنا ہی سگا بیٹا نکلا ہے۔
پولیس کے مطابق، ملزم امان عباس نے مبینہ طور پر اپنی ماں اور دو بہنوں کے سروں پر لکڑی سے بے دردی سے وار کیے اور انہیں بے ہوش کرنے کے بعد گھر کو آگ لگا دی تاکہ اس ہولناک واردات کو ایک حادثہ ظاہر کیا جا سکے۔
پولیس نے واقعہ کی سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر تحقیقات کرتے ہوئے قریبی پٹرول پمپ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم نے واردات کے لیے باقاعدہ پٹرول خریدا تھا۔ پولیس نے غیر قانونی طور پر پٹرول فراہم کرنے والے پٹرول پمپ کے متعلقہ افراد کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش ملزم امان عباس نے اپنے بہیمانہ جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کے تمام شواہد کو اکٹھا کر کے مقدمے کو میرٹ پر مکمل کیا جائے گا اور ملزم کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

