واشنگٹن:
امریکی وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) کے دوران اوہائیو کی گورنر شپ کے انتہائی اہم اور توجہ طلب معرکے میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ایمی ایکٹن (Amy Acton) نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریپبلکن امیدوار اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حامی وویک راماسوامی (Vivek Ramaswamy) کو شکست دے دی ہے۔
یہ انتخابی مقابلہ ملک بھر میں خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا، کیونکہ وویک راماسوامی کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھرپور حمایت اور مقبولیت حاصل تھی۔ تاہم، ڈیموکریٹک امیدوار ایمی ایکٹن نے ووٹرز کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے یہ اہم نشست اپنے نام کرلی۔
-
ایمی ایکٹن اس کامیابی کے ساتھ اوہائیو کی تاریخ میں گورنر منتخب ہونے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔
-
اس نتیجے کو ٹرمپ کے حامی امیدواروں کے لیے ایک بڑا دھچکا اور ڈیموکریٹس کے لیے وسط مدتی انتخابات میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
-
انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد وویک راماسوامی نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے نتائج کا احترام کرنے اور مستقبل میں سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اوہائیو جیسی اہم ریاست میں ڈیموکریٹس کی یہ فتح آنے والے قومی انتخابات پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد اور صحت عامہ کے امور پر ایمی ایکٹن کی مؤثر مہم اس تاریخی فتح کی بنیادی وجوہات بنیں۔

