لاہور (نیوز ڈیسک): ماضی میں ذیابیطس (خصوصاً ٹائپ 2) کو عموماً بڑی عمر کے افراد کی بیماری سمجھا جاتا تھا، تاہم حالیہ طبی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ یہ مرض اب تیزی سے کم عمر بچوں اور نوجوانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ماہرینِ صحت نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ ایک سنگین طبی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
طبی اور سائنسی تحقیقات کے مطابق بچوں میں کم عمری میں ٹائپ 2 ذیابیطس لاحق ہونے کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
1. بچپن کا موٹاپا (Obesity): تحقیق بتاتی ہے کہ بچپن کا موٹاپا اس بیماری کا سب سے بڑا محرک ہے۔ جسم میں غیر ضروری چربی جمع ہونے سے خلیات انسولین (وہ ہارمون جو خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرتا ہے) کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے لگتے ہیں، جسے ‘انسولین ریزسٹنس’ کہا جاتا ہے۔
2. غیر صحت بخش خوراک اور جنک فوڈ: آج کل بچوں کی غذا میں فاسٹ فوڈ، زیادہ چکنائی والی اشیاء، بازاری سنیکس اور خصوصاً میٹھے مشروبات کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ایسی خوراک میں کیلوریز بہت زیادہ اور غذائیت کم ہوتی ہے، جو موٹاپے اور شوگر کا باعث بنتی ہے۔
3. سست طرزِ زندگی (Sedentary Lifestyle): کھیل کود کے کھلے میدانوں کی جگہ اب کمپیوٹر، موبائل فونز اور ویڈیو گیمز نے لے لی ہے۔ جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور مسلسل بیٹھے رہنے کی عادت کی وجہ سے بچوں کا وزن تیزی سے بڑھتا ہے۔
4. جینیاتی عوامل (Genetics): اگر خاندان میں (والدین یا قریبی رشتہ داروں کو) ٹائپ 2 ذیابیطس کی تاریخ رہی ہو، تو بچوں میں اس بیماری کے لاحق ہونے کے خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
5. ہارمونل تبدیلیاں اور بلوغت: بلوغت کے دوران بچوں کے جسم میں ہونے والی تیزی سے ہارمونل تبدیلیاں بھی قدرتی طور پر کچھ عرصے کے لیے انسولین کی افادیت کو کم کرتی ہیں۔ ایسے میں غیر صحت بخش غذا اور موٹاپا صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔
ماہرین کی احتدالی تدابیر اور سفارشات:
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اس رجحان کو درج ذیل اقدامات کے ذریعے روکا جا سکتا ہے:
-
بچوں کو روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ جسمانی ورزش یا بیرونی کھیلوں کا عادی بنایا جائے۔
-
گھر کا تازہ بنا ہوا کھانا، سبزیاں اور تازہ پھل خوراک کا لازمی حصہ بنائیں جبکہ جنک فوڈ اور کولڈ ڈرنکس سے پرہیز کریں۔
-
والدین خود بھی صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں تاکہ بچے بھی اچھی اور صحت مند عادات سیکھ سکیں۔

