نواب شاہ (بیورو رپورٹ: نفیس آرائیں)
بلوچستان کے شہر سبی میں دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے نواب شاہ کے رہائشی غریب مزدور محمد جمن کھوسو کے قاتلوں کی گرفتاری عمل میں نہ لائے جانے کے خلاف ورثاء اور کھوسو برادری نے نواب شاہ پریس کلب کے سامنے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا اور علامتی بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔
مظاہرین کی قیادت رئیس عبدالکریم کھوسو، عبدالستار کھوسو، غلام حیدر کھوسو اور عبداللہ کھوسو کر رہے تھے، جبکہ احتجاج میں مقتول کے معصوم یتیم بچے بھی کتبے اور بینرز اٹھائے شریک تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر قاتلوں کی فوری گرفتاری اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کے نعرے درج تھے۔
اس موقع پر مظاہرین نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً ایک ماہ قبل محمد جمن کھوسو روزگار کے سلسلے میں بلوچستان کے شہر سبی گیا تھا، جہاں نامعلوم دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے اسے بیدردی سے قتل کر دیا۔ ورثاء کا کہنا تھا کہ مقتول محمد جمن کھوسو اپنے گھر کا اکلوتا اور واحد کفیل تھا، جس کے اچانک قتل کے بعد اس کے معصوم بچوں اور پورے گھرانے کو شدید معاشی اور مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
مظاہرین نے وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ محمد جمن کھوسو کے قتل میں ملوث عناصر اور دہشت گردوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور سخت ترین سزا دی جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپیل کی کہ مقتول کے یتیم بچوں کی مستقل کفالت کے لیے فی الفور مالی امداد کا اعلان کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کی داد رسی ہو سکے۔

