نیویارک :بھارت میں غربت کی شرح میں غیرمعمولی کمی۔ 2011 سے2023 کے درمیان انتہائی غربت کی شرح27فیصدسے2.6 فیصد پرآگئی۔پاکستان میں2018 کےبعدسےغربت میں اضافے کاٹرینڈ۔ انتہائی غربت کی شرح 23فیصد۔ورلڈبینک کی رپورٹ آگئی
عالمی بینک کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح سال 2025ء کے دوران بڑھ کر 29 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اس دوران ملک کے امیر اور غریب طبقے کے درمیان معاشی خلیج اور مالی فرق میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2019ء میں قومی سطح پر غربت کی شرح 22 فیصد تھی، جس میں سال 2025ء تک مجموعی طور پر 7 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی ادارے نے پاکستان میں غربت میں اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں ملک بھر میں منہ زور مہنگائی، روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، قومی وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور محنت کش مزدوروں کی کم ہوتی ہوئی حقیقی آمدنی کو قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان تمام منفی معاشی عوامل کا سب سے زیادہ اور براہِ راست بوجھ کم آمدنی والے غریب گھرانوں پر پڑا ہے، اور اعداد و شمار کے مطابق سال 2024ء کے دوران پاکستان میں 7 کروڑ 26 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور رہے۔
عالمی بینک نے اپنی اس رپورٹ میں ملک کے اندر امیر اور غریب طبقے کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ عدم مساوات کو جانچنے اور ماپنے والے عالمی انڈیکس میں پاکستان کا سکور سال 2018ء میں 28.4 تھا، جو خراب ہو کر سال 2025ء میں 32.7 ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے تشویشناک اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں یومیہ 3 ڈالر سے بھی کم آمدن پر گزارہ کرنے والے افراد کی شرح 23 فیصد بنتی ہے، جو کہ 5 کروڑ 76 لاکھ سے زائد کی آبادی پر مشتمل ہے۔
بھارت میں غربت کی شرح میں غیر معمولی کمی، پاکستان میں 29 فیصد بڑھ گئی، ورلڈ بنک رپورٹ

