انقرہ/تل ابیب:
ترکی نے ان تمام میڈیا رپورٹس اور الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ترکی نے اسرائیل کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ انقرہ نے ان دعوؤں کو "مکمل طور پر بے بنیاد” قرار دیا ہے۔
ترکی کے صدارتی دفتر کے تحت کام کرنے والے مرکز برائے انسدادِ ڈس انفارمیشن (Center for Countering Disinformation) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ:
"یہ الزامات حقائق کے برعکس ہیں اور ایک سوچی سمجھی بدنیتی پر مبنی مہم کا حصہ ہیں، جن کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ اور مسخ کرنا ہے۔”
حالیہ اسرائیلی انتخابات کے نتائج کے بعد سیاسی عدم استحکام اور حکومت سازی میں تعطل کے باعث اسرائیلی سکیورٹی اداروں (جن میں شن بیت اور مبینہ طور پر موساد بھی شامل ہیں) نے غیر ملکی مداخلت کے شبہات پر اپنی تحقیقات کا دائرہ کار قطر کے بعد اب ترکی (انقرہ) تک پھیلا دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، انٹیلی جنس ادارے اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا بیرونی ممالک کی جانب سے فنڈنگ یا دیگر ذرائع سے انتخابی نتائج اور بالخصوص ووٹروں کے رجحانات پر اثر ڈالا گیا یا نہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل قطر بھی اس نوعیت کے الزامات کی پرزور تردید کر چکا ہے، جبکہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے کشیدہ سفارتی تعلقات کے تناظر میں یہ نیا تنازع خطے میں ایک اور سفارتی محاذ کھولتا نظر آ رہا ہے۔

