سرینگر:
مقبوضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس (این سی) کی حکومت کے اندرونی سیاسی حلقوں میں ہلچل اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب پارٹی کے ناراض ارکانِ اسمبلی نے حکومت اور پارٹی قیادت کے خلاف کھلا محاذ کھول دیا۔ اطلاعات کے مطابق، ایک اہم اجلاس کے دوران ناراض ارکان نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں کابینہ میں فوری طور پر ردوبدل اور وزیر اعلیٰ کے قریبی حلقوں و مشیروں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا پُرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، سرینگر میں منعقدہ اس خفیہ اور اہم اجلاس میں تقریباً 18 نیشنل کانفرنس کے ارکانِ اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ حالیہ کابینہ کی تشکیل اور توسیع کے عمل میں پارٹی کے پرانے، مخلص اور سینئر رہنماؤں کو یکسر نظر انداز کیا گیا، جس سے زمینی سطح پر کارکنوں اور عوام میں بھی مایوسی پھیل رہی ہے۔ناراض ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ کابینہ میں موجودہ توازن کو نظرثانی کے بعد بہتر بنایا جائے اور تمام خطوں و گروپوں کو منصفانہ نمائندگی دی جائے۔ارکان کا مؤقف ہے کہ وزیر اعلیٰ کے اردگرد موجود مخصوص مشیروں اور قریبی ساتھیوں کا فیصلہ سازی میں حد سے زیادہ اثر و رسوخ پارٹی اور حکومت کے درمیان خلیج پیدا کر رہا ہے، لہٰذا انہیں فوری طور پر ہٹایا جائے۔ اجلاس میں یہ بھی زور دیا گیا کہ حکومت کے فیصلوں میں پارٹی کے منتخب نمائندوں کی آراء کو بنیادی اہمیت دی جائے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اندرونی بغاوت نیشنل کانفرنس کی قیادت کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں بالخصوص بی جے پی کی جانب سے حکمران اتحاد کی اس اندرونی رسہ کشی پر کڑی تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ فی الحال پارٹی قیادت ناراض ارکان کو منانے اور ڈیمیج کنٹرول کے لیے متحرک ہو چکی ہے تاکہ حکومت کے اندر کسی بھی ممکنہ بڑے بحران کو روکا جا سکے۔

