لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ اگر کوئی یہ ثابت کر دے کہ انہوں نے عوام کے پیسے کی ایک پائی بھی ادھر سے اُدھر کی ہے تو وہ فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر چلی جائیں گی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سرکاری محکموں میں کرپشن اب بھی موجود ہے، تاہم حکومت بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔
پنجاب انوویشن فار ویلیوا پر چونٹی اینڈ ٹرانسفارمیشن منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ یہ دعویٰ نہیں کرتیں کہ پنجاب میں کرپشن مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، لیکن حکومت کی کوشش ہے کہ سرکاری اداروں میں بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ چاہے محکمہ ماحولیات ہو یا کوئی دوسرا سرکاری ادارہ، کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی جاری ہے تاکہ کسی شہری کو اپنے جائز کام کے لیے سرکاری دفتر جانے پر رشوت دینے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
پنجاب میں کرپشن کے خاتمے کے لیے بلاامتیاز کارروائی جاری ہے تاکہ کسی شہری یا کاروباری شخص کو جائز کام کے لیے رشوت نہ دینا پڑے۔ پولیس، فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور ریونیو سمیت مختلف محکموں میں کرپٹ عناصر کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے۔ میں یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ کرپشن مکمل ختم ہو گئی، لیکن اسے مشکل ضرور بنا رہی ہوں۔ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کے اندر بھی احتساب کیا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف
— PMLN (@pmln_org) October 30, 2026
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ آج بھی بعض سرکاری دفاتر میں لوگوں کو یہ کہا جاتا ہے کہ جب تک پیسے نہیں دیں گے، ان کا کام نہیں ہوگا۔ میں اس بات سے انکار نہیں کر رہی کہ ایسا ہو رہا ہے، لیکن ہماری کوشش ہے کہ اس نظام کو تبدیل کیا جائے اور شہریوں کو بغیر رشوت اپنے جائز کام کروانے کی سہولت فراہم کی جائے۔ مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ماحولیاتی تحفظ انتہائی ضروری ہے، تاہم اس کے نام پر فیکٹریوں اور صنعتی یونٹس کو بند کرنا مناسب طریقہ نہیں، کیونکہ اس سے نہ صرف صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے بلکہ ہزاروں مزدوروں کے روزگار پر بھی اثر پڑتا ہے۔
متعلقہ محکمے صنعتوں کی نگرانی کریں، انہیں وارننگز جاری کریں اور ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائیں، لیکن فیکٹریوں کا کام بند کرانے سے گریز کیا جائے۔ مریم نواز نے کہا کہ جس ملک میں روزانہ احتجاج ہوں، میٹرو جلائی جائے، آگ لگائی جائے اور لوگ ڈنڈے لے کر سڑکوں پر نکل آئیں، وہاں فیکٹری کھلنے کے بعد مزدور اپنے کام پر کیسے پہنچے گا؟ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کو اورنج لائن میٹرو ٹرین اور گرین بس سروس متعارف کرانے کا کریڈٹ دینا چاہیے، کیونکہ ان سہولیات کے ذریعے مزدور صرف 20، 30 یا 40 روپے خرچ کرکے کام پر پہنچ سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے فیروزپور روڈ پر قائم صنعتی کلسٹر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کی صنعتوں کو بار بار کاروبار دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے کہا جاتا ہے، حالانکہ صنعتی سرگرمیوں اور مزدوروں کے روزگار کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ماحولیات کی نگرانی جاری رکھیں لیکن فیکٹریاں بند کرنے کے بجائے قابل عمل اقدامات کریں۔
ان کا سرمایہ کاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر آپ بزنس لے کے آرہے ہیں تو میں نہیں پوچھوں گی کہ آپ پیسہ کہاں سے لارہے ہیں، یہ نواز شریف کا پنجاب ہے، یہ ان کی پالیسی ہے، میں نے اس لیے دو سال سےنئے کاروبار پر کوئی نیا ٹیکس لاگو نہیں کیاوزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ صوبے میں ای بزنس کو تیزی سے فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران 4 لاکھ نوجوانوں کو جدید ہنر سے آراستہ کر کے ہنر مند بنایا گیا ہے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کے لیے خصوصی مالی معاونت بھی فراہم کی گئی ہے۔
Punjab has the largest agricultural and industrial base in the country and is the food basket of Pakistan. Yet, businesses face challenges such as expensive land and limited access to financing. Through PIVOT, we are addressing these barriers by offering innovative solutions, including interest subsidies to encourage investment.
If it were up to me, I would never question where an investor’s money comes from. This reflects Muhammad Nawaz Sharif’s legacy. However, I remain bound by federal laws and regulations.
In the past two and a half years, I have imposed no new taxes in Punjab. Instead, we have expanded the tax base and brought more people into the tax net.
— PMLN (@pmln_org) October 30, 2026
لاہور میں ‘پنجاب انوویشن فار ویلیو، آپرچیونٹی اینڈ ٹرانسفارمیشن’ (PIVOT) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ آبادی کے لحاظ سے پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اور دنیا میں رونما ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں کے پیش نظر آج صنعت سمیت ہر شعبہ تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے، کیونکہ کوئی بھی ملک بدلتے ہوئے معاشی تقاضوں سے ہم آہنگ ہوئے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قومی جی ڈی پی میں پنجاب کا نمایاں اور کلیدی حصہ ہے، صوبے میں فارماسیوٹیکل انڈسٹری تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور نوجوان آبادی ملک کا سب سے بڑا اثاثہ بن سکتی ہے۔
مریم نواز شریف نے کاروبار کے لیے پُرامن ماحول کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تاجروں کو ذہنی سکون فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے، اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی میں امن و امان بنیادی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ بدامنی اور بے یقینی کی فضا میں کاروبار ممکن نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جہاں روزانہ کی بنیاد پر احتجاج اور توڑ پھوڑ ہو، وہاں محنت کش اور تاجر کیسے سکون سے کام کر سکتا ہے؟ سرمایہ کاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری لانے کے لیے سب سے پہلے ماحول کو محفوظ بنانا ہوتا ہے، ماحولیاتی تحفظ بلاشبہ انتہائی ضروری ہے، تاہم ماحولیاتی تحفظ کی آڑ میں کارخانے بند کرا دینا کوئی درست اقدام نہیں ہے بلکہ صنعتوں کو ماحول دوست بنانے اور ان کی مؤثر نگرانی کرنے کی ضرورت ہے۔

