لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبہ بھر سے آئے ہوئے چھوٹے، درمیانے اور بڑے کاشتکاروں کے ایک اہم وفد سے تفصیلی ملاقات کے دوران پنجاب میں زراعت کے فروغ اور کسانوں کی خوشحالی کے لیے 10 بڑے اور تاریخی اعلانات کر دیے ہیں۔
اس موقع پر صوبے میں زراعت کی تاریخ کا پہلا "اپنا کسان بینک” قائم کرنے اور گندم کی سرکاری خریداری کے لیے 4,500 روپے فی من امدادی قیمت (Support Price) پر عملدرآمد یقینی بنانے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس موقع پر کاشتکاروں نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ساتھ مل کر ان کی سالگرہ کا کیک کاٹا اور زراعت کی بہتری کے لیے ان کے انقلابی اقدامات کو "گیم چینجر” قرار دیتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کاشتکاروں کو بلا سود اور آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کے لیے اہم اعلانات کیے۔
زیرو مارک اپ لون: کاشتکاروں کے لیے 1 کروڑ روپے تک کے قرضے پر صفر فیصد (زیرو) مارک اپ ہوگا۔ جبکہ 3 کروڑ کے قرض پر 2 فیصد اور 5 کروڑ کے قرض پر محض 5 فیصد سود لیا جائے گا۔
کسان کارڈ میں اضافہ: کھاد اور زرعی ادویات کی بڑھتی قیمتوں کے پیشِ نظر کسان کارڈ کی فی ایکڑ لمٹ 30,000 روپے سے بڑھا کر 33,500 روپے (3,500 روپے کا اضافہ) کر دی گئی ہے۔ اس مد میں کسانوں کو 17 ارب روپے کی سبسیڈائزڈ فنانسنگ فراہم کی جائے گی۔
بجٹ میں ریکارڈ اضافہ: صوبائی حکومت نے زراعت کے بجٹ کو 11 سالہ 3 ارب روپے کی سطح سے بڑھا کر 400 ارب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب ملک کا "فوڈ باسکٹ” ہے اور 70 فیصد غذائی ضروریات پوری کرتا ہے۔ انہوں نے پنجاب میں جاری دیگر اہم زرعی منصوبوں کا احاطہ کیا:
ایگرو پروسیسنگ پارکس سرگودھا، بھکر، خانیوال اور اوکاڑہ میں آم، کینو، آلو وغیرہ کی پروسیسنگ اور ایکسپورٹ کے لیے پارکس قائم کیے جا رہے ہیں۔
گرین ٹریکٹر سکیم کے تحت 25 ہزار ٹریکٹر سبسڈی پر دیے جا چکے ہیں، جبکہ کل 50 ہزار ٹریکٹرز کی فراہمی سے مقامی ٹریکٹر انڈسٹری چل پڑی ہے۔
ہائی ٹیک میکانائزیشن 70 ارب روپے کی لاگت سے جدید مشینری اور ہیپی سیڈرز مہیا کیے جا رہے ہیں۔
پانی کی بچت و نہری نظام پنجاب بھر میں پانی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس مہم جاری ہے، کھالوں کو پختہ کیا جا رہا ہے اور پوٹھوہار میں 400 منی ڈیمز بن رہے ہیں۔
زیتون پیکج پاکستان کے ‘انٹرنیشنل آلیو کونسل’ کا مستقل رکن بننے پر زیتون کی کاشت کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا گیا۔
"کسان اور حکومت کا ایک دوسرے پر 100 فیصد اعتماد ہے”
پنجاب کے فارمرز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا:
"پاکستان کی معاشی ترقی کا پہیہ پنجاب کے کاشتکار کے بغیر نہیں چل سکتا۔ کسان کارڈ کسان بھائیوں سے ہماری محبت کا ثبوت ہے، جس سے 10 لاکھ سے زائد چھوٹے کاشتکار فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ہم نے آئی ایم ایف کے دباؤ کے باوجود زرعی انکم ٹیکس پر کسانوں کے حق میں مزاحمت کی ہے۔ کسانوں کی جانب سے 100 فیصد قرضوں کی واپسی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کسان پر اور کسان حکومت پر پورا اعتماد کرتا ہے۔”
وزیراعلیٰ نے سموگ کے خاتمے کے لیے کسانوں سے فصلوں کی باقیات (پراسٹ) نہ جلانے کی اپیل بھی کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت عاشق حسین کرمانی اور کاشتکاروں کے نمائندوں حسن رضا، عامر حیات بندیشہ اور سجاد علی نے وزیراعلیٰ کے اقدامات کو پنجاب کی زراعت کے لیے ایک نیا سحر قرار دیا۔

