مقام / تل ابیب:
اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات کے ابتدائی نتائج نے ملک کو سیاسی بحران میں دھکیل دیا ہے، جہاں کسی بھی بڑے سیاسی بلاک کو حکومت سازی کے لیے درکار مطلوبہ اکثریت (61 نشستیں) حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ اس سیاسی رسہ کشی کے دوران نگران وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے عرب جماعتوں پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔انتخابی نتائج کے بعد اپنے بیان میں وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ عرب جماعتوں (خصوصاً رعام پارٹی) نے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنوبی اسرائیل میں نقد رقم کے لفافوں کے ساتھ ایسے افراد کو پکڑا گیا ہے جو ووٹنگ کے عمل کو متنازعہ بنانا چاہتے تھے۔ نیتن یاہو نے اس صورتحال کو جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا۔دوسری جانب عرب جماعتوں کے رہنماؤں نے نیتن یاہو کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں "سیاسی بوکھلاہٹ” قرار دیا ہے۔ عرب رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اپنی شکست اور اقتدار کے خاتمے کو دیکھ کر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کا سہارا لے رہے ہیں۔ادھر اسرائیلی انتخابی کمیشن اور حکام نے واضح کیا ہے کہ انہیں ملک بھر سے پولنگ کے دوران بڑے پیمانے پر کسی بھی گڑبڑ یا منظم دھاندلی کے خاطر خواہ شواہد نہیں ملے ہیں۔ مبصرین کے مطابق، انتخابات میں عرب جماعتوں کی شاندار کارکردگی نے انہیں اسرائیلی سیاست میں "کنگ میکر” کی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے، اور اب آنے والی حکومت کی تشکیل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان جوڑ توڑ کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

