لاہور :لاہور کے اہم صنعتی علاقے کٹار بند روڈ کی زبوں حالی اور واسا کی جانب سے جاری نامکمل ترقیاتی کاموں پر صنعتی برادری شدید سراپا احتجاج بن گئی ہے۔ کٹار بند روڈ انڈسٹریل ایسوسی ایشن کا ایک اہم اور ہنگامی اجلاس صدر ڈاکٹر وسیم سرور کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں صنعتی علاقے میں جاری مسائل اور سڑک کی عدم تعمیرہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر وسیم سرور نے کہا کہ واسا کی جانب سے چھ ماہ قبل سڑک کی کھدائی کی گئی تھی لیکن طویل عرصہ گزرنے کے باوجود سڑک کی تعمیر نو شروع نہیں کی جا سکی۔ اس صورتِ حال کے باعث علاقے میں مسلسل دھول اور مٹی کے طوفان اٹھ رہے ہیں، جس سے نہ صرف انڈسٹریل ایریا میں کاروبار شدید متاثر اور تباہ ہو چکے ہیں بلکہ علاقے کے ماحول میں آلودگی کی شرح میں بیحد اضافہ ہو چکا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک طرف پنجاب حکومت سموگ کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا دعویٰ کر رہی ہے، لیکن دوسری جانب سموگ سیزن کی آمد کے باوجود اتنی اہم صنعتی سڑک کی تعمیر شروع نہ ہونا انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔ خشک مٹی اور دھول کی وجہ سے سموگ کے ماحول میں مزید بدترین اضافہ ہو رہا ہے جس سے حکومت کے انقلابی اقدامات کا اثر زائل ہونے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔
اجلاس میں موجود صنعتکاروں نے متفقہ طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ کٹار بند روڈ کی فوری تعمیر کا نوٹس لیں اور واسا سمیت ذمہ دار اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر کام مکمل کرنے کی ہدایات جاری کریں تاکہ صنعتکاروں کا معاشی نقصان بچے اور سموگ کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

