لندن/کینشاسا: افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (Africa CDC) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر جین کسیا (Jean Kaseya) نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی برادری نے احتیاطی تدابیر اور مقابلے کے لئے فوری وسائل فراہم نہ کئے افریقہ میں ایبولا کی حالیہ بدترین لہر برطانیہ اور دیگر براعظموں تک پھیل سکتی ہے ۔
ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں شروع ہونے والا یہ 17واں اور تاریخ کا سب سے مہلک آؤٹ بریک اب تک 10 ہزار سے زائد افراد کو متاثر کر چکا ہے، جبکہ تقریباً 5 ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ڈاکٹر کسیا نے اس بحران کا موازنہ کووڈ-19 کی عالمی وبا سے کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار افریقہ کے تین مختلف خطے بیک وقت اس مہلک وائرس کی زد میں آئے ہیں۔ یہ وائرس کانگو کے بعد کینیا، یوگنڈا اور نائیجیریا تک پھیل چکا ہے، جبکہ افریقہ سے باہر فرانس میں بھی ایک ڈاکٹر میں اس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ وائرس کی یہ قسم ‘بنڈی بوگیو’ (Bundibugyo) ہے، جس کا فی الوقت کوئی تصدیق شدہ علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے۔ افریقی طبی حکام نے دنیا بھر کی حکومتوں اور عالمی عطیہ دہندگان سے 2 ارب ڈالر سے زائد کے بقایا فنڈز فوری جاری کرنے اور ہوائی اڈوں و سرحدوں پر سکریننگ سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس عالمی تباہی کو بر وقت روکا جا سکے
افریقہ میں ایبولا وائرس کا غیر معمولی اور ہولناک پھیلاؤ، بیماری کے برطانیہ سمیت دنیا بھر میں پھیلنے کا خطرہ!

