اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف اور امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے درمیان وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹارگٹڈ سبسڈیز (Targeted Subsidies) کا دائرہ کار بڑھانے پر اصولاً اتفاق کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اگر دونوں فریقین کی تکنیکی کمیٹیاں حتمی فریم ورک پر متفق ہو جاتی ہیں، تو مستحق افراد کے لیے پیٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر تک کی نمایاں ریلیف ممکن ہو سکے گی۔
اس مجوزہ منصوبے کے تحت پیٹرولیم سبسڈی اسکیم میں مزید 50 لاکھ (5 ملین) مستحقین کو شامل کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ پرانے ماڈل کی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو بھی اس اسکیم کا حصہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام کے تحت عمومی سبسڈی (Blanket Subsidy) دینا ممکن نہیں ہے، کیونکہ اس سے آئی ایم ایف کا معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے اور اس کا فائدہ غریبوں کے ساتھ ساتھ امیر طبقے کو بھی پہنچے گا۔
جماعتِ اسلامی نے پیٹرول کے ساتھ ساتھ ڈیزیل پر ریلیف دینے پر سخت زور دیا، کیونکہ زراعت، ٹرانسپورٹ اور دیگر اہم معاشی شعبوں کا براہِ راست انحصار ڈیزیل پر ہے۔ جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ ڈیزیل کو استثنیٰ دینے سے کسان متاثر ہو رہے ہیں اور ملک میں مہنگائی کا طوفان آ رہا ہے۔
جماعتِ اسلامی کے دباؤ کے بعد حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ ڈیزل کو بھی مناسب حد تک ٹارگٹڈ پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں حکومت پہلے ہی مقامی طور پر تیار ہونے والے ڈیزل کی قیمت عالمی مارکیٹ سے الگ کر کے 32 روپے فی لیٹر تک کم کر چکی ہے۔
دونوں فریقین کی تکنیکی کمیٹیاں اس وقت فریم ورک، اہلیت کے معیارات اور سبسڈیز کی حتمی رقم کا تعین کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کا حتمی اعلان جلد متوقع ہے۔

