بیجنگ / پیانگ یانگ : شمالی کوریا کے سربراہ کیم جونگ ان چین کے سرحدی شہر ڈانڈونگ (Dandong) کے ہنگامی اور غیر اعلانیہ ایک روزہ دورے کے بعد وطن واپس لوٹ گئے ہیں۔
اس غیر متوقع دورے کا مقصد دونوں ممالک کی جانب سے پیشگی طور پر ظاہر نہیں کیا گیا تھا، جبکہ دورے کے دوران کیم جونگ ان کی چینی صدر شی جن پنگ یا چینی پریمیئر لی چیانگ سے باضابطہ ملاقات کی تصدیق سامنے نہیں آ سکی ہے۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے ’سنہوا‘ کے مطابق، چین کے اعلیٰ ترین سیاسی مشیر وانگ ہوننگ اور اعلیٰ سفارتکار وانگ ای نے دورے کے دوران کیم جونگ ان کی میزبانی کی اور سرحدی پل پر انہیں رخصت کیا۔ کیم جونگ ان نے کوریا جنگ (1950-1953) میں ہلاک ہونے والے چینی فوجیوں کی یادگار پر حاضری دی اور ایک آٹو موبائل فیکٹری کا دورہ بھی کیا۔
شمالی کوریا کے معاملے پر اس غیر معمولی سفر نے عالمی سفارتی حلقوں میں زبردست ہلچل مچا دی ہے:
🚨 Kim Jong Un suddenly arrives in China
The North Korean dictator drove across a brand-new bridge connecting the two countries, visited a war memorial, went to a factory and met with Wang Huning, chairman of the National Committee of the Chinese People’s Political Consultative Conference.
As we can see, Kim Jong Un is alive and well. Unfortunately, rumors that he was in a coma have not been confirmed.
— NEXTA (@nexta_tv) October 24, 2026
جنوبی کوریا کے قانون ساز یون کن ینگ اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، کم جونگ ان کا یہ دورہ چین کے شہر شینژین (Shenzhen) میں نومبر میں متوقع ‘ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن’ (APEC) اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ممکنہ سربراہی اجلاس کا مثبت اشارہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، کم جونگ ان بیجنگ سے معاشی تعاوان میں تیزی لانے اور ٹرمپ کے ساتھ متوقع مذاکرات سے قبل چین کی مضبوط سفارتی حمایت حاصل کرنے کے لیے ڈانڈونگ پہنچے۔ حیرت انگیز طور پر جون میں صدر شی جن پنگ کے دورہ پیانگ یانگ کے بعد جاری کردہ اعلامیے اور حالیہ بیانات میں ”ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے“ (Denuclearization) کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جسے عالمی ماہرین بیجنگ کے شمالی کوریا کے ایٹمی طاقت ہونے کا خاموش اعتراف قرار دے رہے ہیں۔
کیم جونگ ان نے اس سفر کے لیے ‘نیا یالو ریور برج’ (New Yalu River Bridge) استعمال کیا، جو ڈانڈونگ اور شمالی کوریا کے شہر سینوئجو (Sinuiju) کے درمیان 4 لین پر مشتمل 3 کلومیٹر طویل پل ہے۔ 2014 میں مکمل ہونے والا یہ پل رابطہ سڑکوں کی عدم دستیابی کے باعث بند تھا، جسے رواں ماہ کے وسط میں باقاعدہ فعال کیا گیا ہے جو چین اور شمالی کوریا کے درمیان معاشی تعلقات کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ہے۔
دوسری جانب، سرحدی کشیدگی کے باعث ڈیملیٹرائزڈ زون (DMZ) میں سرنگ اور مائن دھماکوں کے بعد جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ (Lee Jae Myung) کی جانب سے بلا مشروط مذاکرات کی پیشکش کو پیانگ یانگ نے مسترد کر دیا ہے۔ اس دورے سے چند گھنٹے قبل کیم جونگ ان نے پیانگ یانگ میں عسکری قیادت سے خطاب کرتے ہوئے اپنی افواج کو دنیا کی طاقتور ترین فورس بننے اور ”کوریائی طرز کے ملٹری انقلاب“ کے لیے تیار رہنے کی سخت ہدایت کی تھی۔

