لاہور : سی سی ڈی (CCD) اہلکار پر خاتون سے زیادتی کے الزام کے کیس میں سنسنی خیز موڑ سامنے آیا ہے۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ مقدمہ درج کروانے والی خاتون کوئی مظلوم شہری نہیں بلکہ ایک منظم اور پیشہ ورانہ بلیک میلنگ گروہ کی رکن ہے جو شہریوں اور سرکاری اہلکاروں پر جھوٹے مقدمات قائم کر کے ان سے بھاری رقم بٹورتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:
سی سی ڈی اہلکار کی نوجوان لڑکی سے جنسی زیادتی، برہنہ ویڈیو بنا لی
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ خاتون ’عائشہ‘ کے فرضی اور اصلی نام سے شہر کے مختلف تھانوں میں اس سے قبل بھی زیادتی کے 5 مختلف مقدمات درج کروا چکی ہے۔ پولیس کے مطابق ان 5 میں سے 3 مقدمات پہلے ہی تفتیش کے دوران جھوٹے اور من گھڑت ثابت ہونے پر خارج کیے جا چکے ہیں۔
پولیس کی چھان بین میں گروہ کے طریقہ کار (Modus Operandi) سے متعلق انتہائی حیران کن حقائق سامنے آئے ہیں۔
پہلے درج کروائے گئے پانچوں مقدمات میں ’نسیم‘ نامی ایک خاتون خود کو عائشہ کی والدہ ظاہر کر کے مدعی بنتی رہی، جبکہ پولیس کی تصدیق کے مطابق نسیم کا عائشہ سے کوئی خونی یا قانونی رشتہ ہی نہیں ہے۔
حالیہ سی سی ڈی اہلکار کے خلاف درج کروائے گئے مقدمے میں عائشہ خود مدعیہ بنی، تاہم رابطہ نمبر کے خانے میں اسی نسیم نامی خاتون کا فون نمبر فراہم کیا گیا۔ اس گروہ نے لاہور کے مختلف علاقوں بالخصوص کوٹ لکھپت، مانگا منڈی اور نشتر کالونی کے تھانوں میں بے گناہ افراد کے خلاف زیادتی کے پرچے کٹوا رکھے تھے تاکہ بعد میں بلیک میل کر کے سنگین نتائج کے خوف سے ان سے خطیر رقم وصول کی جا سکے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کو جھوٹے مقدمات میں الجھا کر رقم بٹورنے والے اس بلیک میلر گروہ کے دیگر تمام سہولت کاروں اور ارکان کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے سخت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
سی سی ڈی اہلکار کی خاتون سے زیادتی کیس:’عائشہ‘ نامی خاتون عادی مدعیہ نکلی، متعدد تھانوں میں 5 مقدمات درج کروانے کا انکشاف

