ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کا قتل: مرکزی ملزم گرفتار، مریم نواز شریف کی ہدایت پر انصاف کی فراہمی جاری
لاہور (خصوصی رپورٹ): صوبائی وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک خصوصی بیان میں ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی کے نیچے کچل کر قتل کرنے کے دلخراش واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ المیہ ہر حساس دل کو جھنجھوڑ دینے والا ہے اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے واضح احکامات کے تحت ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کیس کے اہم حقائق جاری کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول وسیم عباس کا تعلق مظفرگڑھ سے تھا، والد کے انتقال کے بعد اس کی والدہ نے دوسری شادی کر لی تھی جبکہ بچوں کو یتیم خانے میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں وسیم گزشتہ 6 سال سے سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 اور پنجاب چیریٹیز کمیشن کے تحت رجسٹرڈ ادارہ ”دارالخدا“ میں مقیم تھا۔ ایک ہفتہ قبل اسے الیکٹریکل کام سیکھنے کے لیے ٹھیکیدار توقیر کے حوالے کیا گیا تھا، جہاں 19 اکتوبر کو کام کی جگہ پر بدسلوکی کے بعد جب وہ وہاں سے بھاگا تو ملزم توقیر اور اس کے ساتھی امجد نے کار کے ذریعے ایک کلومیٹر تک اس کا پیچھا کیا اور اسے گاڑی تلے کچل کر بے دردی سے ہلاک کر دیا۔
ملتان میں پندرہ سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی کے نیچے کچل کر قتل کرنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ ہر حساس دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔خواتین اور بچے وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف کی ریڈ لائن ہیں۔ پنجاب میں ایسے جرائم کو قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب خود اس معاملے کو دیکھ رہی ہیں۔
چند حقائق آپکے سامنے رکھنا چاہتی ہوں
وسیم عباس مظفرگڑھ کا رہائشی تھا۔ اس کے والد بچپن میں ہی انتقال کر گئے تھے، ماں نے جعفر سے دوسری شادی کی۔ تین بہن بھائی (دو بھائی، ایک بہن) سب کو یتیم خانہ میں داخل کرایا گیا تھا۔ بہن چھ ماہ پہلے ڈسچارج ہو کر ماں کے پاس ہے، دوسرا بھائی اب بھی اسی یتیم خانے میں ہے، جبکہ وسیم گزشتہ چھ سال سے وہاں مقیم تھا۔
یتیم خانہ کا نام دارالخدا ہے جو سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 اور پنجاب چیریٹیز کمیشن کے تحت رجسٹرڈ ہے۔ یہاں تقریباً ۱۴۰ بچے رہتے ہیں۔
ایک ہفتہ قبل وسیم کو ٹھیکیدار توقیر کے حوالے کیا گیا تاکہ اسے الیکٹریکل کام سکھایا جائے۔ ۱۹ اکتوبر کو کام کی جگہ پر اس کے ساتھ بدسلوکی ہوئی، وہ بھاگ نکلا۔ ملزم توقیر اور اس کا ساتھی امجد کار میں اس کا پیچھا کرتے ہوئے تقریباً ایک کلومیٹر تک گئے اور اسے دیکھتے ہی گاڑی کے نیچے کچل کر ہلاک کر دیا۔
مرکزی ملزم توقیر گرفتار ہے اور گاڑی قبضے میں ہے۔ دوسرے ملزم امجد کے ٹھکانوں پر فیصل آباد میں پولیس چھاپے مار رہی ہے۔ دفعات 302، 34 پی پی سی کے تحت ایف آئی آر 990/2026 درج ہو چکی ہے اور پولیس خود مدعی ہے۔ پراسیکیوشن پولیس کے ساتھ مل کر مضبوط کیس تیار کر رہی ہے۔ ملزم کو پانچ دن کی ریمانڈ مل چکی ہے۔ ایس پی کینٹ خدیجہ نے مظفرگڑھ میں مقتول کے خاندان سے ملاقات کی، ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی اور مالی مدد بھی فراہم کی ہے۔
وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ہدایت کی ہے کہ انصاف کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ پنجاب میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے ذریعے بچوں کے تحفظ، رحمت کارڈ کے تحت یتیموں کی مالی مدد، اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات جاری ہیں۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی جیسے پراجیکٹ بھی مریم حکومت میں شروع کیے گئے۔ یہاں بچوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ انصاف ضرور ہوگا۔— Azma Zahid Bokhari (@AzmaBokhariPMLN) October 20, 2026
وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ خواتین اور بچے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ”ریڈ لائن“ ہیں اور صوبے میں تشدد اور سفاکی کے ایسے جرائم کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس واقعے میں پولیس خود مدعی بن کر انسدادِ دہشت گردی اور قتل کی دفعات 302 اور 34 کے تحت ایف آئی آر نمبر 990/2026 درج کر چکی ہے، جبکہ مرکزی ملزم توقیر کو گاڑی سمیت گرفتار کر کے 5 روز کے جسمانی ریمانڈ پر حاصل کر لیا گیا ہے اور دوسرے نامزد ملزم امجد کی گرفتاری کے لیے فیصل آباد میں پولیس کی ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایس پی کینٹ خدیجہ نے مظفرگڑھ میں مقتول وسیم کے لواحقین سے ملاقات کر کے مالی امداد فراہم کی ہے اور شفاف و تیز ترین انصاف کی یقین دہانی کرائی ہے۔ عظمیٰ بخاری کے مطابق پنجاب حکومت چائلڈ پروٹیکشن بیورو، رحمت کارڈ کے ذریعے یتیموں کی معاشی دیکھ بھال اور ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی جیسے منصوبوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنا رہی ہے، اور اس افسوسناک واقعے میں بچے کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

