پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے تاجروں نے دعویٰ کیا ہے ایران سے درآمدات تاحال بند ہیں تاہم برآمدات کے لیے سرحد کو عارضی طور پر کھول دیا گیا ہے۔ بلوچستان کے سرحدی اضلاع کیچ اور چاغی کے دو سرکاری اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ برآمدات کے لیے بارڈر عارضی طور پر کھول دیا گیا ہے۔
تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی نوٹیفکیشن یا اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سرحدی تبادلے جاری ہیں اور اس میں کوئی تعطل نہیں۔
سینیچر کے روز پاکستانی حکام نے ایران کے ساتھ سرحد کو تجارت کے لیے بند کردیا تھا جس کے باعث سرحد کی دونوں جانب بڑی تعداد میں مال بردار گاڑیاں پھنس گئی تھیں۔
گوادر کی ضلعی انتظامیہ سے سرحد کی موجودہ صورتحال جاننے کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے کال وصول نہیں کی تاہم کیچ اور چاغی میں دو سینیئر سرکاری اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرحد تاحال ایران سے درآمدات کے لیے بند ہے تاہم اسے برآمدات کے لیے عارضی طور پر کھول دیا گیا ہے۔
ضلع گوادر سے گبد ریمدان بارڈر پر پاکستانی تاجروں کی تنظیم کے چیئرمین عبدالغفور ہوت نے بتایا کہ منگل کو ایک سینیئر فوجی افسر نے گوادر کا دورہ کیا تھا۔
عبدالغفور ہوت کے مطابق تاجروں کی فوجی افسر سے ملاقات ہوئی اور سرحد کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ منگل کو روز دوپہر کے بعد گبد ریمدان بارڈر کو پاکستانی حکام نے صرف برآمدات کے لیے کھول دیا لیکن ایران سے امپورٹ اب بھی بند ہے۔(سورس بی بی سی اردو)
پاکستان نے ایران کے ساتھ برآمدات کے لیے سرحد عارضی طور پر کھول دی

